اسلام آباد(ویب ڈیسک)گزشتہ ہفتے فاطمہ جناح پارک میں خاتون کا مبینہ ریپ کرنے والے ’گارڈز‘ کو پولیس اب تک ڈھونڈنے میں ناکام ہے۔کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے پولیس کی رپورٹ کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا تاہم دعویٰ کیا کہ جلد انکوائری کی جائے گی۔مارگلہ اسٹیشن ہاو¿س افسر (ایس ایچ او) الفت عارف نے ڈان کو بتایا کہ ’ہم نے پارک میں موجود تمام گارڈز کا ڈیٹا حاصل کرلیا ہے، خاتون سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ تمام گارڈز کی تصاویر دیکھ کر مبینہ ملزم کا چہرہ پہچانے‘۔پولیس کے مطابق ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ملزم گارڈ یا پولیس افسر ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر رہا ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم پارک بہت بڑا ہے اور ہر جگہ کیمرے نہیں لگائے گئے، امید ہے کہ جلد کسی نتیجے پر پہنچیں گے‘۔ایس ایچ او الفت عارف کے مطابق ریپ کی شکایت ایک متوسط ??طبقے سے تعلق رکھنے والے پڑھنے لکھے خاندان نے درج کروائی ہے۔ یاد رہے کہ 7 اگست کو خاتون اپنے دوست کے ہمراہ پارک میں موجود تھیں، جب وہاں موجود 2 افراد نے ان سے اپنا تعارف پارک کے گارڈز کے طور پر کروایا اور کہا کہ وہ سی ڈی اے کے لیے کام کرتے ہیں۔مبینہ ملزمان نے سامان لوٹنے کے بعد انہیں پارک کے علیحدہ علیحدہ دروازوں سے باہر جانے کو کہا۔خاتون نے پولیس کو بتایا کہ ان کے دوست کو پارک کے دوسرے دروازے سے باہر بھیجنے کے بعد، مبینہ گارڈز میں سے ایک نے ان کا ریپ کیا۔خاتون کے مطابق وہ اس واقع کے بعد اس حد تک ڈر چکی تھیں کہ چار دن تک شکایت درج نہیں کروا پائیں۔سی ڈی اے کے ترجمان ملک سلیم نے ڈان کو بتایا کہ معاملے کی ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے، لہذا محکمہ ملزم کی شناخت کا انتظار کرے گا۔البتہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملزم کی شناخت ہونے یا نہ ہونے کے باجود بھی وہ جلد محکمے کی انکوائری کریں گے۔
سی ڈی اے کے گارڈز کاخاتون سے مبینہ ریپ ،پولیس ملزم ڈھونڈنے میں نا کام

