لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ نگاراعجاز حفیظ خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کوئی بھی خان حلقہ دوبارہ نہیں کھلوا سکتا۔ 44 حلقے کھل چکے ہیں پھر بھی اپوزیشن کو چین نہیں آ رہا۔ الیکٹیبلز کی ہار جمہوریت کی فتح ہے۔ عمران خان کے آنے سے رات کا پچھلا پہر ختم ہو گیا نئی صبح چل پڑی ہے۔ بدقسمتی ہے کہ حکومت سے پہلے اپوزیشن بن گئی اپوزیشن پھول ہے جسے دو سال بعد کھلنا ہے۔ این آر او کے تحت اثاثوں کی تفصیل مانگنا سپریم کورٹ کا بہترین اقدام ہے ان کے لوٹنے میں زرداری اور نواز کا مقابلہ چھوٹے اور بڑے بھائی کا ہے۔ تجزیہ نگار خالد چودھری نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کے مظاہرے کا فیصلہ ن لیگ کا تھا اور شہباز شریف ہی احتجاج میں غیرحاضر تھے۔ الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج میں پیپلزپارٹی کے دو سابق وزراءاعظم کی حاضری سب سے مضبوط تھی۔ پیپلزپارٹی نہیں چاہے گی کہ حکومت کو جائے اور غیر جمہوری قوتیں آئیں اس ملک میں آمریت کبھی نہیں آئے گی۔ سیاستدانوں کو کرپشن کے راستہ بیوروکریٹس دکھاتے ہیں ایک لاکھ سیاستدان کو دیکھ کر خود 50 لاکھ کماتے ہیں کرپشن کا پہلا آغاز ایوب خان نے گندھارا سے کیا۔ تجزیہ نگار مریم ارشد نے کہا کہ عوام بولتے نہیں رہے اب بولنے لگے ہیں مگر سیاستدانوں نے اپنے کیے پر قوم سے معافی نہیں مانگی۔ الیکشن 2018ءمیں چڑا بھی پر نہیں مار سکتی تھی۔ دھاندلی کہیں نہیں ہوئی۔ آر ٹی ایس کے خلاف کمیشن بیٹھنا چاہیے۔ میزبان تجزیہ نگار وکالم نگار توصیف احمد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حلقوں میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی رکوانا آئینی اور درست فیصلہ ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل آئینی عہدوں سے افسران کو کہتا ہے اور کوئی نہیں عمران کیلئے دعا ہے کہ ملک کی تقدیر بدلیں۔ تحریک انصاف نے بھی آر ایس پی پر اعتراض کیا ہے۔ چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کو 3 بار فون کیا اور پھر انہیں کہنا پڑا کہ شاید چیف الیکشن کمشنر سو رہے ہیں آر ٹی ایس کی جوڈیشل انکوائری مطالبہ ہے۔

