گگومنڈی (نامہ نگار) ڈاکٹر قصائی بن گیا، غلط آپریشن سے محنت کش کی بیوی قریب المرگ۔ محمدسلیم اپنی بیوی شمائلہ بی بی کو پیٹ میں درد ہونے سرکاری ہسپتال یں ڈاکٹرنعیم کے پاس لایا جو اسے اپنے نجی کلینک پر لے گیا۔ اپنڈکس کا آپریشن کرتے ہوئے پیٹ کی کئی انتڑیوں کو بھی کٹ لگادئیے۔ افاقہ نہ ہونے پر چند روز بعد دوبارہ آپریشن کر ڈالا جس سے مریضہ کی تکلیف میں مزیداضافہ ہوگیا۔ 22روز بعد مریضہ کا پیٹ پھولنے پر سلیم نے چھٹی مانگی تو ڈاکٹر نے کہا کہ مریضہ مرتی ہے تومرجائے بل ادا کئے بغیرچھٹی نہیں ملے گی۔ سلیم زبردستی اپنی بیوی کو وہاں سے جنرل ہسپتال لاہور لے گیا جہاں ڈاکٹرز نے چیک اپ کے بعد لاعلاج کہتے ہوئے کہا کہ اپنی بیوی کو گھر لے جاﺅ۔ محنت کش سلیم نے اپنی بیوی کے علاج کیلئے گھرکے برتن تک بیچ ڈالے۔ ڈاکٹرکے خلاف کاروائی نہ کی گئی تو بیوی اور بچوں سمیت خودکشی کرنے پر مجبور ہوں گا۔ متاثرہ محمدسلیم کی فون کال پرخبریں ٹیم ان کے گاﺅں پہنچ گئی۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز نواحی گاﺅں273۔ ای بی کے رہائشی محنت کش محمد سلیم ولد صالح محمدانصاری کی فون کال پرخبریں ٹیم جب اس کے گھرپہنچی تواس نے بتایاکہ تقریباًایک ماہ قبل میری بیوی شمائلہ بی بی کے پیٹ میں معمولی درد ہوا جسے لے کر سرکاری ہسپتال گگومنڈی گیا تووہاں تعینات ڈاکٹرنعیم طاہرنے کہاکہ اسے میرے پرائیویٹ کلینک پرلے جاﺅ وہاں تمہاری بیوی کا علاج کیا جائے گا۔ جب میں اپنی بیوی کو ڈاکٹر نعیم کے الغنی ہسپتال میں لے کرگیا تو ڈاکٹر نعیم نے اپنڈکس کا کہتے ہوئے میری بیوی کا آپریشن کردیا۔ آپریشن کے بعدافاقہ ہونے کی بجائے دردمیں مزید اضافہ ہوتا چلا گیا تو چند رزو بعد ڈاکٹر نعیم نے میری بیوی شمائلہ کا ایک اور آپریشن کردیا۔ 22روزتک میری بیوی ڈاکٹرنعیم کے نجی ہسپتال میں داخل رہی اس دوران جب میری بیوی کاپیٹ پھولنے لگاتومیں نے کہاکہ آپ چھٹی دے دیں تاکہ میں اپنی بیوی کاعلاج کہیں سے کروا سکوں جس پر ڈاکٹر نعیم نے کہا کہ تمہاری بیوی مرتی ہے تو مر جائے فیس اداکئے بغیر تم اسے نہیں لے جاسکتے۔ 23ویں روز میں زبردستی اپنی بیوی کو وہاں سے جنرل ہسپتال لاہور لے گیا جہاں ڈاکٹرز نے چیک اپ کے بعد بتایا کہ دوران آپریش مریضہ کی متعدد انتڑیوں کو بھی کاٹ دیا گیا ہے اب علاج ممکن نہیں ہے تم اسے واپس گھرلے جاﺅ۔ متاثرہ محمدسلیم نے کہاکہ اگر مجھے انصاف نہ ملاتومیں بیوی بچوں سمیت خودکشی کرنے پر مجبور ہو جاﺅں گا۔ محنت کش محمدسلیم نے خبریں کی وساطت سے چیف جسٹس، سیکریٹری ہیلتھ، ڈی سی، سی ای اوہیلتھ وہاڑی سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

