لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار میاں حبیب نے کہا ہے کہ جشن پر عید کا سماں ہوتا ہے جس طرح عید پر نئے ملبوسات سلوائے جاتے ہیں اس طرح جشن آزادی پر بھی ہوتا ہے۔ چینل ۵ کے پروگرام ”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جشن آزادی پر جوش وجذبہ محسوس کیا جا سکتا ہے کچھ لوگوں نے کہا تھا اس مرتبہ 14 اگست نہیں منائیں گے قوم نے ان کو جواب دے دیا جو ایسے عناصر کے منہ پر قوم کا تھپڑ ہے قوم نے بتا دیا ان کے بیانیے کو مثبت ثابت گیا قوم متحد ہے۔ عمران خان نے نوجوان نسل کو چارج کیا اور ان میں نئی روح پھونکی ہے اور ذہنی طور پر تیار کیا۔ تحریک انصاف پیپلزپارٹی کے ساتھ تعاون پر بہرحال آ جائے گی۔ آصف زرداری، نواز شریف اور شہباز شریف مک مکا چاہتے ہیں۔ کالم نگار توصیف احمد خان نے کہا ہے کہ چودہ اگست کے موقع پر قوم کا جذبہ قابل دید تھا جب پاکستان بنا تو میں ایک سال کا تھا یعنی اپنی ماں کی گود میں تھا آج بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان کا قیام کسی طور ضروری تھا۔ ملک سے یاسیت والی صورتحال ختم ہو رہی ہے مسائل اپنی جگہ قوم اپنے جذبے سے ان مسائل کو ختم کرے گی۔ ملک سے محبت بچوں کے خون میں شامل ہے۔ ساڑھے آٹھ سو سال پہلے ایک بزرگ نعمت شاہ نے کہا تھا انگریز چلا جائے گا لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک تنازع چھوڑ جائے گا وہ تنازع کشمیر ہے آج ان کی بات سچ ثابت ہو گئی۔ کالم نگار آغا باقر نے کہا کہ جشن آزادی پر قوم کے جذبے نے میرے اندر ایک چنگاری پیدا کر دی۔ نئی نسل اس ملک کو مزید مضبوط کرے گی۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ برا اور غیرمعیاری سلوک ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں اور انہیں کس مسائل کا سامنا نہیں جبکہ بھارت میں اس کے برعکس ہے۔ کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا ہے کہ ملک میں نوجوان طبقے کیلئے کچھ کرنا ہو گا ملک میں صلاحیت مند نوجوان لیکن انہیں درست سمت میں لے کر جانے کی ضرورت ہے دنیا میں آزادی سے بڑی کوئی نعمت نہیں بہرحال ترقی کے مواقع ہوتے ہیں بس ذرا تربیت کی ضرورت ہے۔ بےروزگاری کے باعث نوجوان نسل جرائم کی جانب مائل ہوتی ہے۔

