Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • امریکا ایران سے ڈیل کی بھیک کیوں مانگ رہا ہے؟ سینیٹر کوری بکر
    • رواں ماہ کروڑوں روپے جیتنے کا سنہری موقع!
    • عامر خان تیسری مرتبہ دولہا بننے کیلئے تیار، شادی کب ہوگی؟
    • کراچی: لیاقت آباد میں نادرا رجسٹریشن سینٹر سے متعلق اہم اپڈیٹ
    • پیرس ائیر شو میں پاکستانی ایف17 تھنڈر vertical ٹیک آف وڈیو وائرل
    • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، وزیراعظم
    • قوانین کیخلاف ورزی پر گلوکار بادشاہ کا نائٹ کلب سیل
    • اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
    • ملکی توانائی شعبے کے لیے خوش آئند پیشرفت، سانگھڑ میں تیل و گیس کا نیا ذخیرہ دریافت
    • ایک عام انجینئر سے مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ کر ایشیا کا دوسرا امیر ترین فرد بننے والا شخص
    • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں: وزیراعظم
    • وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
    • دہلی کے ریسٹورنٹ میں ہولناک آتشزدگی، 21 افراد ہلاک
    • ہیروئن کے کردار ہمیشہ نہیں رہتے، میں اس کیلئے تیار ہوں: ماہرہ خان
    • ’ایبولا آیا تو ہم ختم ہو جائیں گے‘، کانگو کے کیمپ خوف کی لپیٹ میں
    • پری شندور پولو ٹورنامنٹ 2026 کا ٹائٹل چترال اسکاؤٹس اے نے جیت لیا
    • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اصافہ فی بیرل قیمت 41۔91 ریکارڈ
    • پاکستان اٹلی معاہدہ سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
    • لبنان سے فوری نکل جائو اسرائیل کو پاکستان کی وارننگ
    • سمارٹ لاک دائون میں نرمی مارکیٹیں شاپنگ مال بازار 9 بجے تک کھلے رہیں گے
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ورلڈ کپ تیار ی میں ٹیم کی تیاری ناقص کیوں ہوئی ہے

    By Daily Khabrainمئی 27, 2019
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کی افغانستان کے ہاتھوں وارم اپ میچ میں شکست نے پاکستانی شائقین کو ایک مخمصے میں ڈال دیا ہے کہ تنقید کارُخ بالخصوص ٹیم کے کس شعبے کی جانب کیا جائے؟ البتہ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ بیٹنگ وہ شعبہ ہے جس میں پاکستان دوسری ٹیموں کے مقابلے میں گذشتہ دو دہائیوں سے خاصا پیچھے ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین جہاں فیلڈنگ اور بولنگ پر کڑی تنقید کرتے رہے وہیں پاکستان کی بیٹنگ بھی ان کے باﺅنسرز کا سامنا کرتی رہی۔ایک ایسے ہی تذبذب کا شکار صارف نے کہا کہ یہ نا انصافی ہے، جب پاکستان بیٹنگ کرتا ہے تو پچ بولنگ کے لیے سازگار ہوجاتی ہے اور جب بولنگ کرتی ہے تو بلے بازوں کے لیے پچ جنت کی مانند ہوجاتی ہے۔پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے آخری 10 ایک روزہ میچوں میں مسلسل ناکامی کا سامنا کر چکی ہے جس میں آسٹریلیا کے ہاتھوں وائٹ واش بھی شامل ہے۔ انگلینڈ کے خلاف کھیلی گئی سیریز میں بھی حیران ک±ن طور پر پاکستان نے تین میچوں میں 340 سے زائد رنز بنائے مگر پھر بھی فتح یاب نہ ہوسکے۔ان ناکامیوں کی وجوہات پر نظر ڈالی جائے تو بیشتر تجزیہ کاروں سے اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ بولرز نے ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔البتہ بی بی سی نے گذشتہ تین ورلڈ کپس میں بیٹنگ کے اعداد و شمار سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر ٹیم کی ورلڈ کپ سے قبل تیاری اتنی غیر معیاری کیوں ہوتی ہے؟ایک روزہ کرکٹ یقیناً ایک ارتقائی عمل سے گزری ہے۔ 90 کی دہائی میں 220 سے زائد ٹیم کا مجموی سکور ایک بہت اچھا سکور مانا جاتا تھا۔یہ وہ وقت تھا جب باﺅنڈریاں بڑی ہوتی تھیں اور بلوں کی پیمائش چھوٹی۔ سنہ 2007 کے ورلڈ کپ میں یہ رجحان تبدیل ہوتا دکھائی دیا اور ٹیموں کی بیٹنگ اوسط میں واضح بہتری آئی۔ ا±س وقت دنیائے کرکٹ کی بہترین ٹیموں کے پاس کم سے کم چار ایسے بلے باز موجود تھے ورلڈ کپ میں جن کی بیٹنگ اوسط 40 سے زائد تھی۔ہم نے سنہ 2005 سے 2007 تک پاکستان ٹیم میں شامل ان بلے بازوں کی بیٹنگ اوسط کا جائزہ لیا جن کی اوسط 40 سے زائد تھی۔ پاکستانی بلے باز بیٹنگ اوسط (2005 سے 2007 تک)
    محمد یوسف 42.75
    انضمام الحق 42.50
    پاکستان کی ورلڈ کپ 2007 کی ٹیم میں صرف دو کھلاڑی ایسے تھے جن کی بیٹنگ اوسط 40 سے زائد تھی۔ اگر دیگر دوسری ٹیموں پر نظر دہرائی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم میں پانچ ایسے

    بلے باز موجود تھے جن کی بیٹنگ اوسط 40 سے زائد تھی۔
    آسٹریلوی بلے باز بیٹنگ اوسط (2005 سے 2007 تک)
    مائیکل ہسی 66.23
    مائیکل کلارک 44.34
    میتھیو ہیڈن 44.03
    رکی پونٹنگ 43.75
    اینڈریو سائمنڈز 41.66
    تاہم آسٹریلیا کی اس ٹیم نے ورلڈ کپ 2007 کا ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔ اس لیے شاید ان سے موازنہ کرنا درست نہ ہو مگر اگر انڈیا اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کو بھی دیکھا جائے تو ا±س دوران ان کے پاس تین یا اس سے زائد بلے باز ایسے تھے جن کی بیٹنگ اوسط 40 سے زیادہ تھی۔
    کرکٹ ورلڈ کپ 2011

    جنوبی ایشیا میں ہونے والے 2011 کے ورلڈ کپ میں سپنرز نے ٹیموں کی اگلے مراحل کی رسائی تک اہم کردار ادا کیا۔پاکستان بھی اس ٹورنامنٹ میں سیمی فائنل تک پہنچنے میں کامیاب ہوا جس میں بولنگ نے ایک کلیدی کردار ادا کیا جبکہ حسب معمول پاکستانی بیٹنگ نے ’انپریڈیکٹیبل‘ ہونے کا لقب سینے سے لگا لیا تھا۔ا±س ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم میں کوئی ایک کھلاڑی بھی ایسا نہیں تھا جس کی بیٹنگ اوسط 40 سے زائد ہو۔ پاکستان کی جانب سے بہترین بلے باز مصباح الحق تھے جن کی بیٹنگ اوسط 2009 سے 2011 تک 38.14 تھی۔البتہ 2011 کے ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم پر نظر ڈالی جائے تو انڈیا کے پاس پانچ ایسے بلے باز تھے جن کی اوسط 40 سے زیادہ تھی۔
    انڈین بلے باز بیٹنگ اوسط (2009 سے 2011 تک)
    سچن تندولکر 57.47
    مہندر سنگھ دھونی 53.51
    ویرات کوہلی 48.80
    گوتم گھمبیر 46.00
    ویرندرا سہواگ 43.31
    اس ورلڈ کپ میں جنوبی افریقہ کی ٹیم کو بھی ہاشم آملہ اور اے بی ڈیویلیرز کی خدمات حاصل تھیں۔ جنوبی افریقہ کی ٹیم میں پانچ ایسے بلے باز شامل تھے جن کی بیٹنگ اوسط 40 سے زائد تھی۔
    کرکٹ ورلڈ کپ 2015
    اس وقت تک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نے کرکٹ میں اپنا ایک مقام بنا لیا تھا اور شائقین کے لیے یہ ایک دلچسپ انداز کی کرکٹ تھی۔اس کے اثرات اب ایک روزہ کرکٹ میں بھی واضح طور پر محسوس کیے جاسکتے تھے۔ بلے بازوں نے منفرد انداز کی شاٹس ایجاد کر لی تھیں۔ بیٹنگ اوسط سے زیادہ ٹیمیں اب سٹرائیک ریٹ پر توجہ دے رہی تھیں۔اس ارتقا کا مطلب تھا کہ ٹیم کا مجموی سکور اب 300 کے لگ بھگ ہو تو اسے اچھا سکور تصور کیا جاتا تھا۔ پاکستان کی بیٹنگ اوسط کے حوالے سے یقیناً بہتری نظر آئی۔
    پاکستانی بلے باز بیٹنگ اوسط (2013 سے 2015 تک) سٹرائک ریٹ
    مصباح الحق 45.15 72.88
    محمد حفیظ 41.59 83.58
    پاکستانی ٹیم میں 2011 کی نسبت دو بلے باز ایسے تھے جن کی اوسط 40 سے زائد تھی مگر اسی دوران ان کا مقابلہ دنیا کے ایسے بلے بازوں کے ساتھ تھا جن کی اوسط تو اچھی تھی ہی مگر سٹرائیک ریٹ بھی شاندار تھا۔
    بلے باز بیٹنگ اوسط (2013 سے 2015 تک) سٹرائیک ریٹ
    اے بی ڈیویلیرز 60.28 107.60
    ویرات کوہلی 52.13 97.34
    سنہ 2013 سے 2015 تک کے اعداد وشمار یہ بتاتے ہیں کہ معیاری بلے بازوں کی اوسط 45 سے زائد ہونا ضروری ہوگیا اور 85 سے کم کا سٹرائک ریٹ معیوب سمجھا جانے لگا۔
    کرکٹ ورلڈ کپ 2019

    پاکستانی بلے باز اب 40 کیا 50 کی بیٹنگ اوسط سے کھیل رہے ہیں مگر پھر بھی تنقید ہورہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ کرکٹ کا بدلتا رجحان ہے جس میں 350 جیسا ہدف بھی ٹیمیں باآسانی پورا کر رہی ہیں۔تاہم اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان کے پاس پہلے تین بلے باز بہت مستحکم ہیں اور ان کی بیٹنگ اوسط شاندار ہے مگر فخر زمان کے علاوہ کسی بھی بلے باز کا سٹرائیک ریٹ قابل ستائش نہیں۔عماد وسیم اور آصف علی کا سٹرائیک ریٹ بین الاقوامی کرکٹ کے معیار پر پورا اترتا ہے تاہم ان کی بیٹنگ اوسط گدشتہ دو برس میں 40 سے کم ہے اور مزید یہ کہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ ان دونوں کی جگہ کھیلنے والے 11 کھلاڑیوں میں آتی ہے کہ نہیں۔
    پاکستانی بلے باز بیٹنگ اوسط (2017 سے 2019 تک) سٹرائیک ریٹ
    امام الحق 60.30 81.58
    بابر اعظم 51.47 82.76
    فخر زمان 51.31 98.14
    اس ٹورنامنٹ کے فیورٹ تصور کیے جانے والی انگلینڈ کی ٹیم میں جوس بٹلر، جونی بئیرسٹو جیسے کھلاڑی ہیں جن کا بیٹنگ سٹرائیک ریٹ 110 سے بھی زائد ہے جبکہ تقریباً دیگر تمام بلے بازوں کا سٹرائیک ریٹ 95 سے زائد ہے۔ان اعداد و شمار سے یقیناً یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستانی ٹیم سیکھ تو رہی ہے مگر موجودہ وقت کی کرکٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔ اعداد و شمار کی بنا پر تو نہ صرف ٹیم کو بلکہ پاکستانی شائقین کو فکر مند ہونا چاہیے۔البتہ کچھ خوش فہمی سے متاثر شائقین اب بھی ٹیم سے آس لگائے بیٹھے ہیں۔پاکستانی ٹیم کو ورلڈ کپ سے قبل آج آخری موقع ملے گا کہ وہ اپنے دوسرے وارم اپ میچ میں بنگلہ دیش کے خلاف بہتر کارکردگی دکھا کر ٹیم کا اور شائقین کا اعتماد بحال کرسکیں۔تاہم اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو قسمت پر یقین رکھنے والوں کو اس بات میں یقیناً دلچسپی ہوگی کہ 1992 ورلڈ کپ سے قبل پاکستان ایک نہیں دو وارم اپ میچ ہارا تھا۔

     

    Daily Khabrain

    Keep Reading

    وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟

    پری شندور پولو ٹورنامنٹ 2026 کا ٹائٹل چترال اسکاؤٹس اے نے جیت لیا

    آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف

    تازہ ترین

    رواں ماہ کروڑوں روپے جیتنے کا سنہری موقع!

    کراچی: لیاقت آباد میں نادرا رجسٹریشن سینٹر سے متعلق اہم اپڈیٹ

    ایک عام انجینئر سے مکیش امبانی کو پیچھے چھوڑ کر ایشیا کا دوسرا امیر ترین فرد بننے والا شخص

    بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں: وزیراعظم

    دہلی کے ریسٹورنٹ میں ہولناک آتشزدگی، 21 افراد ہلاک

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.