لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”کالم نگار“میں گفتگو کرتے ہوئے تجزیہ کارعبدالباسط خان نے کہا ہے کہ اگرہمارے پاس ایٹم بم نہ ہوتا تو گذشتہ دنوں بھارت ہم پر حملہ آور ہو چکاہوتا۔مودی پاکستان کے خلاف زہر اگل کر الیکشن جیتنے کے بعد تقریب حلف برداری میں عمران خان کو نہیں لا سکتا۔بھارت دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے عملی اقدامات مانے گا۔پاک بھارت مذاکرات سے معاشی مفادات کو فائدہ ہوگا۔ شریف خاندان کی سیاست نے پاکستان کی سیاست، صحافت ، بیوروکریسی کا بیڑہ غرق کردیا۔ شریف خاندان اپنے مفاد میں احتساب چاہتے ہیں۔ ماہ صیام میں میڈیا پروگرامز صرف دکھاوا بن گئے ہیں۔ پیمرا قوانین پر عملددآمد میں رکاوٹ طاقتور مافیا ہے۔ میزبان تجزیہ کارکاشف بشیر خان نے کہاکہ پاکستان بہت پہلے ایٹمی طاقت بن چکا تھا تاہم سرکاری طور پردھماکے 28مئی 1998ئ کو کیے گئے۔ ایٹمی پروگرام کے موجد ذوالفقار علی بھٹو ہیں جو 1960ئ میں بطورمنسٹر انڈسٹریزیورپ اور فرانس میں ایٹمی ٹیکنالوجی بارے معلومات لیتے رہتے تھے۔ مودی کو دوبارہ لانے کے لیے امریکی فنڈنگ استعمال ہوئی۔ حمزہ شہباز قانون سے بالاتر ہوگیا ہے۔ حمزہ مشرف دور میں حکومتی سطح پر مدد لینے پرویز الہیٰ کے پاس جایا کرتا تھا۔لگ رہا ہے سسٹم لپیٹا جائے گا۔ عامر لیاقت خود کو کبھی صحافی کبھی سیاستدان کہتے ہیں۔ گندی زبان بھی بولتے ہیں اور رمضان ٹرانسمیشن بھی کرتے ہیں۔ کالم نگاراشرف عاصمی نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے سفر کا آغاز کر کے سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ عطا فرمایا۔ قسمت ہے کہ دھماکہ نواز شریف کے دور میں ہوامگر ایٹمی پروگرام کا سہرا بھٹو کو جاتا ہے۔ نواز حکومت میں دشمن کو دشمن نہیں کہا گیامگر موجودہ حکومت میں ہماری خارجہ پالیسی بہتر ہوئی ہے۔ پاکستان نے مودی اور بھارت کے دانت کھٹے کیے، اب اسکا بخار اتر گیا ہے مگر ہمیںاپنے دفاع سے غافل نہیں ہونا کیونکہ مودی پاکستان کو قبول نہیں کرتا۔ وزیراعظم کی مودی سے ملاقات کا مثبت پیغام جائے گا۔بدقسمتی ہے کہ ہمارے حکومتی ادارے اور عدلیہ اشرافیہ اور عام آددمی کو مختلف نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اشرافیہ معاشی دہشتگردی کیساتھ سماجی ودیگر دہشتگردی روا رکھے ہوئے ہے۔ عامر لیاقت مسخرہ ہے اسکو کسی بھی پروگرام کے لیے بین کردینا چاہیئے۔ کالم نگاراظہر صدیق کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کرپشن کا بادشاہ مگر مودی، سعد حریری، جاسم، سعودی شہزادے اور انگلستان کے شہزادے نواز شریف کے یار ہیں۔ نواز شریف اپنے باپ جنرل ضیا الحق کی گودمیں بیٹھ کر لوری لیتے تھے۔ ایٹمی پروگرام کا ایک فیصد کریڈٹ بھی نواز شریف کو نہیں جاتا۔نواز شریف انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ایٹمی دھماکے نہیں کر سکتا تھا دھماکے فوج اور اسٹیبلشمنٹ نے کیے۔مودی پاکستان دشمنی پر الیکشن جیتا۔عمران خان کو قائد اعظم کے دوقومی نظریہ کو سامنے رکھتے ہوئے برابری کی سطح پر بھارت سے بات کرنی چاہئیے۔ تحریک طالبان نے بھی آج پی ٹی ایم کی حمایت کا اعلان کردیاہے۔ پاکستان میں جمہوریت چھینک آنے پر کانپنے لگتی ہے۔آمریت میں عوام کے بنیادی حق اسطرح پامال نہیں ہوتے تھے جس طرح جمہوریت کے نام پر ن لیگ نے نظام کی تباہی کی وہ صرف کاروباریت تھی۔حکومت فیصلہ لے تو پیمرا ہی پی ٹی وی کو اپنے پیروں پر کھڑا کر سکتا ہے۔
شریف خاندان نے پاکستان کی سیاست ، صحافت اور بیوروکریسی کا بیڑہ غرق کردیا: عبدالباسط، ایٹمی پروگرام کا ایک فیصد کریڈٹ بھی نوازشریف کو نہیں جاتا : اظہر صدیق ، بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے سفر کا آغاز کیا سر اٹھاکر جینے کا حوصلہ دیا: اشرف عاصمی ، مودی کو دوبارہ لانے کیلئے امریکی فنڈنگ استعمال ہوئی، کاشف بشیر خان ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو
