اسلام آباد (آئی این پی‘ مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ساری قوم کی توجہ پانامہ کیس کی طرف ہے‘ قوم سے وعدہ ہے کہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کریں گے‘ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں‘ اس کیس کے لئے کمیشن کی ضرورت نہیں‘ نواز شریف نے وزیراعظم بن کر پیسہ بنایا اور باہر بھجوایا‘قوم کو یہ معاملہ بھولنے نہیں دیں گے۔ صدر کا کرپشن پر بیان نواز شریف کی طرف اشارہ ہے۔ وہ جمعہ کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔ انہوں نے کہا ہماری کوشش تھی روزانہ کی بنیاد پر سماعت اور جلدی فیصلہ ہو۔ ساری قوم سپریم کورٹ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں ۔ساری قوم کی توجہ پانامہ کیس کی طرف ہے۔ قوم سے وعدہ ہے کہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ نئے چیف جسٹس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ جسٹس ثاقب نثار پر بہت بڑی ذمہ داری ہوگی۔ امید کرتے ہیں کہ جنوری کے پہلے ہفتے یہی بینچ اس کیس کو سنے۔ حکمرانوں کو تسلیم کرنا پڑا کہ ان کی جائیداد ملک سے باہر ہے۔ نواز شریف نے کہا تھا کہ ہمارے پاس تمام دستاویزات ہیں۔ خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ فکر نہ کریں قوم جلد بھول جائے گی۔ اس کیس سے فیصلہ ہوگا کہ کیا طاقتور کے لئے بھی قانون ہے۔ اگر یہ آئی سی آئی جے کی دستاویز نہیں مانتے تو نوٹس کیوں نہیں بھیجا۔ اس کیس کے لئے کمیشن کی ضرورت نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے جواب طلب کریں گے۔ قوم کو یہ معاملہ نہیں بھولنے دیں گے۔ ان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ پرانا ریکارڈ کہاں سے لائیں۔ مریم نواز نے انٹرویو میں کہا کہ ان کی کوئی پراپرٹی نہیں ہے۔ آئین کہتا ہے کہ وزیراعظم پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہے۔ وزیراعظم کے وکیل نے کہا کہ وزیراعظم کا پارلیمنٹ میں بیان سیاسی تھا۔ ہم اس چیز پر واضح ہیں کہ اس کیس میں کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں۔ نواز شریف نے وزیراعظم بن کر پیسہ بنایا اور باہر بھجوایا۔ سب جانتے ہیں حوالہ اور ہنڈی میں پرچی سسٹم ہوتا ہے۔ عمران خان نے کہا میں ابھی اقتدار میں نہیں آیا پھر کرپشن کا الزام کیسے لگ سکتا ہے۔ نواز شریف ‘ موٹو گینگ کو آٹھ ماہ میں بہت قلابازیاں کھلائیں قطری شہزادے ی آمد پر موٹو گینگ کی شکلیں دیکھنے والی تھیں اب یہ پتہ چلا گلف اسٹیل نقصان کررہی تھی۔ صدر مملکت کے بیان کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ صدر کا کرپشن پر بیان نواز شریف کی طرف اشارہ ہے۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ نظریہ ضرورت ختم نہیں ہوا، نظریہ ضرورت تب ختم ہو گا جب عدالتیں کسی طاقتور پر ہاتھ ڈالنے کے قابل ہونگی۔ پانامہ کیس میں بھی کسی کی فتح یا شکست نہیں ہوئی صرف ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ شریف فیملی کے پاس منی ٹریل ثابت کرنے کیلئے کوئی دستاویزات نہیں ہے۔ ہمیں موقع مل گیا ہے اب مزید تیاری کے ساتھ اائیں گے۔ وزیراعظم کے وکیل کا عدالت میں یہ کہنا کہ پارلیمنٹ میں سیاسی بیان دیا گیا اس لئے تو ن لیگ کے پارلیمنٹیرینز کو بھی شرم آنی چاہئے تھی اور بولنا چاہئے تھا۔ نجی ٹی وی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آج لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کیخلاف التوفیق کیس میں کیس فائل کر رہے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں نظام انصاف سے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ کچہریوں میں عوام کا برا حال ہوتا ہے صرف سپریم کورٹ سے امید ہوتی ہے۔ امید تھی کہ پانامہ کیس میں بہترین بنچ بیٹھا ہے جلد فیصلہ آ جائے گا لیکن کیا ہو سکتا ہے۔ کے پی کے میں جوڈیشل ریفارم پیکیج بنایا ہے ایسا نظام لائیں گے جس سے جلد انصاف میسر ہو۔
کپتان کا ”عدالتوں“ بارے اہم بیان سامنے آگیا

