Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • کولمبیا گلوکار سے اسٹیج پر اسریلی پرچم قدموں تلے روند ڈالا ویڈیو وائرل
    • نا کام لانگ مارچ پی ٹی کی کور کمیٹی میں اختلافات کھل کر سامنے ا گئے
    • لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔
    • رائیونڈ میں عطائی ڈاکٹروں کا راج، گلی محلوں میں غیر قانونی کلینکس قائم
    • واٹس ایپ ویب ڈیسک ٹاپ کے ذریعے حملوں کا ہائی الرٹ جاری
    • ایم سی ایل پلاننگ کے ایم و پی کی اوپن ڈور رشوت پالیسی بلڈنگ قوانین مزاق بنا دیے
    • کولمبیا کی گلو کار نے اسرائیلی پرچم قدموں تلے روند ڈالا ویڈیو وائرل
    • لاہور:پنجاب اسمبلی اجلاس کے موقع پر پولیس اہلکار داخلی راستے پر الرٹ کھڑے ہیں۔
    • سندھ میں سرسوں، تل اور کینولا کی کاشت میں اضافہ خوش آئند ہے: شرجیل میمن
    • 15دسمبر سے پہلے 28ویں آئینی ترمیم آ جائیگی جس کے بعد ملک میں 15سے 17نئے صوبے بن سکتے ہیں:فواد چودھری
    • سندھ میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 4.4 ریکارڈ،شہریوں میں خوف و ہراس
    • فیصل آباد میں مبینہ پولیس مقابلے میں ریکارڈ یافتہ ڈاکو عمیری ہلاک، تین ساتھی فرار
    • پاکستان زرعی پیداوار و ٹیکنالوجی میں وسیع صلاحیت کا حامل ہے: جام کمال خان
    • دانش سکولز اتھارٹی ٹیسٹ کی رول نمبر سلپس جاری، امتحان 30اکتوبر سے یکم نومبر تک ہوگا
    • مشرق وسطیٰ تنازع،جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں
    • احسن بھون نے کیپٹن ر)صفدرکیخلاف 5 ارب روپے ہرجانیکا دعوی دائرکردیا
    • ایس آئی ایف سی کی معاونت’ ڈیجیٹل معاشی ترقی ‘آئی ٹی برآمدات میں اضافہ
    • احسن بھون اور اعظم نذیر تارڑ کو استعفیٰ دینا پڑے گا: کیپٹن محمد صفدر
    • قیمتی ٹرسٹ پراپرٹی کا بہتر استعمال یقینی بنا رہے ہیں: قمرالزمان
    • مقتدرہ، حکومت یا اپوزیشن، کون جیت رہا ہے؟ خواجہ سعد رفیق کا سوال
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ہیڈورکس،بیراج،لنک نہریں افسروں کے لئے سونے کی کانیں بن گئیں،صفائی کے نام پر اربوں کی کرپشن

    By Daily Khabrainاپریل 24, 2020
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    ملتان (رپورٹ:طارق اسماعیل) ہیڈ ورکس، بیراج اور لنک نہریں، صفائی اور سالانہ مرمت کے نام پر کرپشن کے لحاظ سے انہار افسروں کیلئے سونے کانیں بن چکی ہیں۔ مختلف مد میں اربوں روپے کی کرپشن میں ملوث محکمہ انہار کے افسروں نے کینیڈا، امریکہ سمیت ترقی یافتہ ممالک کی شہریت لے کر وہاں کاروبار بھی شروع کر رکھے ہیں، تمام تر دعوﺅں کے باوجود کسی بھی ذمہ دار افسر کے خلاف کارروائی تک نہیں کی جاسکی۔ ہر سال سیلاب سے پہلے ہیڈ ورکس کی بہتری اور سپر بندوں کی مرمت، بحالی کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈز صرف کاغذوں میں خرچ کئے جا رہے ہیں۔ ہر سال سیلاب کی پیشگی اطلاعات کے باوجود دریاﺅں پر ہیڈ ورکس اور بیراجوں کی حقیقی مرمت اور صفائی کا کام شروع نہیں کیا جاتا۔ 2010ءکے خوفناک سیلاب کے بعد بھی بیراجوں اور ہیڈ ورکس کی مرمت اور نصب مشینوں کی صفائی کے نام پر بوگس کارروائیاں کرکے اربوں روپے خوردبرد کرنے والوں کے ضمیر نہیں جاگ سکے۔ صفائی کا کام پھر بھی کاغذوں تک محدود رہا ہے۔ پنجند ہیڈ ورکس کی سالانہ مرمت کیلئے ہر سال4 سے 6 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کئے جاتے ہیں لیکن اس کی کبھی مرمت نہیں ہوسکی، سیلاب کا پانی آنے کی صورت میں مکینیکل پورشن کے پرزوں پر کالا تیل ڈال کر صفائی اور مرمت کا جواز پیدا کیا جاتا ہے لیکن مکمل اور مکینیکل طریقوں کے مطابق صفائی کا کام نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ہیڈ کے درے 2 سے 3 لاکھ کیوسک پانی آنے کی صورت میں بھی پانی کی بروقت اور مکمل فراہمی کا کام نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے بیٹ میں لاکھوں ایکڑ رقبہ سیلاب کی نذر ہو کر تباہی کا باعث بنتا ہے۔ دروں میں سلٹ کی صفائی بھی کبھی نہیں کی جاتی۔ سدھنائی ہیڈ ورکس کی صفائی کیلئے سالانہ ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے 2 کروڑ روپے کے فنڈز صرف کاغذوں میں خرچ کئے جاتے ہیں۔ صرف تریموں ہیڈ ورکس کی صفائی اور مرمت کیلئے 6 سے 7 کروڑ روپے کے فنڈز ہر سال جاری ہو رہے ہیں اور تمام فنڈز صرف کاغذوں میں خرچ کرکے معاملات کلیئر کئے جا رہے ہیں۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ دریائے سندھ اور چناب کے تمام ہیڈ ورکس کو 1968ءکے بعد کبھی بھی مکینیکل قواعد کے مطابق صاف نہیں کیا گیا اور ان کی مرمت بھی قواعد کے مطابق نہیں کی جاسکی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ انہار افسر ریلنگ اور مکینیکل پورشن پر صرف کالا تیل ڈال کر کام چلا لیتے ہیں سالانہ مرمت کیلئے پہلے ٹینڈرز بھی تشہیر نہیں کئے جاتے تھے صرف فرضی کوٹیشنز لے کر فائلوں کا پیٹ بھر کر کام کر لیا جاتا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق بیراجوں اور ہیڈ ورک سکی سالانہ مرمت میں بندی کے دوران مکینیکل پورشن کی موومنٹ، ریلنگ، دروں کی صفائی اور ان کی کھول کر چیک کرنے سمیت 17 قسم کے معمولات کو چیک کرنا ہوتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بیشتر اوقات اس کام کیلئے محکمہ آبپاشی کے مشینری ڈویژن سے بھی مدد لی جاتی ہے لیکن یہ مدد صرف کاغذوں میں کام کرکے مک مکا کرلیا جاتا ہے اور مشینری ڈویژن کے گُر کے کام کرنے کی رقم بھی ایڈوانس مانگتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ہیڈ ورکس اور بیراجوں کی صفائی کے کام میں کی جانے والی کرپشن میں ایس ڈی او ایکسین سے چیف انجینئرز اور پراجیکٹ ڈائریکٹر تک اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں اور آبپاشی کے افسروں کو بھی اس سلسلے میں شامل رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ہیڈ ورکس اور بیراجوں کی مرمت کے کام کے پڑتال تک نہیں کی جاتی اور نہ ہی اس سلسلے میں کبھی انکوائری ہوتی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ بندی کے دنوں میں سالانہ صفائی کے دوران ہیڈ ورکس اور بیراج کو حساس تنصیبات کا جواز بتاتے ہوئے پبلک کی آمدورفت کو بند کرکے صرف کالا تیل انڈیلا جاتا ہے اور سامنے آنے والی جگہوں پر واضح طور پر تیل دکھانے کیلئے زیادہ ڈالا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ آبپاشی اپنا تمام بجٹ مختلف دستاویزات میں بھی شائع کرتا ہے لیکن ہیڈ ورکس اور بیراجوں کی مرمت کا کام بجٹ بھی عام دستاویزات میں شائع نہیں کیا جاتا۔ اس خفیہ دستاویزات کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ صوبائی وزارت آبپاشی کے گریڈ20 کے 2 ریٹائرڈ افسروں نے ”خبریں“ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہیڈ ورکس اور بیراج انہار افسروں کیلئے سونے کی کان سمجھی جاتی ہیں اور اس مد میں کرپشن کرنے والوں کے ناصرف پاکستان بلکہ کینیڈا اور امریکہ میں بھی جائیدادیں بنالی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ انہار اور آبپاشی کے گریڈ18 سے 20 تک کے 11ریٹائر افسروں نے گزشتہ16 سال کے دوران کینیڈا اور امریکہ کی شہرت حاصل کی ہے۔ محکمہ انہار کے ایک چیف انجینئر کے ریٹائرمنٹ کے بعد کینیڈا منتقل ہونے کی وجہ سے ایس ڈی اوز کی اے سی آرز ( محکمانہ سالانہ خفیہ رپورٹیں) بھی لکھوانے کیلئے دستاویزات کینیڈا بھجوائی گئی تھیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ سدھنائی، تریموں، تونسہ پنجند، سمانکی، گدو اور سکھر بیراجوں پر سالانہ مرمت کے نام پر اربوں روپے کرپشن کی نذر ہو رہے ہیں اسی طرح سیلاب کے نام پر بھی سالانہ کروڑوں روپے بھی خرچ کئے جا رہے ہیں۔ معمولی پانی آنے کے بعد تمام ریکارڈ اور معاملات ”دریا برد“ تصور کئے جاتے ہیں اور نہ ہی آڈٹ ہوتا ہے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      خیبرپختونخوا؛ پشاور سمیت دیگر علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے

      کراچی میں جماعت اسلامی کے خلاف کریک ڈاؤن، 10 سے زائد بلدیاتی نمائندے گرفتار

      صدر اور وزیراعظم کی انگلینڈ کے خلاف شاندار فتح پر قومی کرکٹ ٹیم کو مبارکباد

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.