بدقسمتی سے طاقتور اور ڈاکو کیلئے این آر او ،غریب جیل جارہا ، آبادی میں اضافہ سے فوڈ سکیورٹی کامسئلہ ہے ، مہمند سمیت 10 ڈیم 2028 میں مکمل ہو جائینگے کوشش ہے سستی بجلی دیں ،5سال پورے ہونگے تو یہ دیکھنا چاہوں گا کہ کمزور طبقے کو کیسے اٹھایا:پشاور
میں صنعتی ورکرز کے رہائشی منصوبے کا افتتاح،مہمند ڈیم کا دورہ
وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایک بڑے خواب کا نام ہے لیکن بدقسمتی سے قیام پاکستان سے لیکر اب تک کسی نے قوم کو یہ خواب سمجھانے کی کوشش ہی نہیں کی، سارے مافیاز اکٹھے ہوکر مجھ سے این آر او لینے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں مگر انہیں کبھی این آر او نہیں دوں گا، دم دبا کر لندن بھاگنے والے پنجاب کے سیاستدانوں کو جلد واپس لائینگے وہ زیادہ دیر نہیں بچیں گے ، کوشش ہے عوام کوسستی بجلی فراہم کریں ، مہمند سمیت 10 ڈیم 2028 میں مکمل ہو جائینگے ۔ وہ پشاور کے علاقے ریگی للمہ میں صنعتی ورکرز کیلئے 2000 سے زیادہ فلیٹس پر مشتمل رہائشی منصوبے کے افتتاح کے بعد تقریب سے خطاب اور مہمند ڈیم کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے ۔ عمران خان کا تقریب سے خطاب میں کہنا تھا آئی پی پیزکے ساتھ نئے معاہدے کرکے کافی بچت کی ہے ، کوشش ہے عوام کوسستی بجلی فراہم کر سکیں، ہم پاکستان میں پانی سے 50ہزارمیگاواٹ بجلی بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان ایک بہت بڑے خواب کا نام تھا، اللہ نے مدینہ کی ریاست کے اوپر سب سے زیادہ نعمتیں بخشی تھیں، گزشتہ ادوار میں کبھی کسی نے غریب کیلئے کچھ نہیں کیا۔عمران خان کا کہنا تھا قانون کے آگے سب برابر ہیں،این آراو ہماری تباہی کا سبب بنا۔ وزیر اعظم نے کہا وہ ملک کو 2 بنیادی اصولوں کے تحت آگے لے جا نا چاہتے ہیں ، ایک قانون کی بالادستی اور دوسرا کسی کو این آر او نہیں دینا ۔ انہوں نے کہا سارے مافیاز اکٹھے ہو کر مجھ سے این آراولینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ، میں کبھی این آراو نہیں دوں گا انہیں قانون کے نیچے لانا ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے طاقتور اور ڈاکو کیلئے این آر او اورغریب جیل میں جارہا ہے ، ہم نے قانون کی بالادستی کیساتھ کمزور طبقے کو اوپر اٹھانا ہے ، کمزورطبقے کی ذمہ داری ریاست کی ہے ، ہمارے 5سال ختم ہوں گے تو یہ دیکھنا چاہوں گا کہ کمزور طبقے کو کیسے اوپر اٹھایا۔انہوں نے کہا قانون کی بالادستی اور مافیاز کی سرکوبی سے ملک ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا خیبر پختونخوا کبھی کسی جماعت کو دوسری باری نہیں دیتا لیکن تحریک انصاف کی کارکردگی کی وجہ سے ہمیں دوبارہ منتخب کیا اور دوتہائی اکثریت ملی کیونکہ عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں غربت میں تیزی سے کمی آئی ہے اور انسانی ترقی پر کام ہوا ہے ، وہ کرپٹ سیاستدان جو پوچھتے تھے کہ نیا پختونخوا کدھر ہے دیکھ لیں ہمارے کارناموں کی تصدیق عالمی ادارے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 5سال سے صوبے کے ہیلتھ سیکٹر میں انقلاب آچکا ہے اور صوبے کے عوام اس انقلاب سے مستفید ہو رہے ہیں۔عمران خان نے کہا پنجاب کے بڑے بڑے سیاستدان اپنا پیسہ بچانے اور قانون سے بچنے کیلئے دم دبا کر لندن بھاگے ہوئے ہیں مگر وہ زیادہ دیر نہیں بچیں گے ان کو ہم واپس لے کر آئیں گے فکر نہ کریں یہ یہاں آکر کہتے تھے کہاں ہے نیا پختونخوا کیونکہ ان کو تو عادت پڑی ہوئی تھی کہ بڑے بڑے امیروں کو اور امیر کرو ان کو پتا ہی نہیں تھا کہ نیچے کیا ہورہا ہے کتنا بڑا انقلاب آ رہا ہے ۔ خیبرپختونخوا کے شناختی کارڈ کا مطلب آپ کو 10 لاکھ کی ہیلتھ انشورنس مل گئی۔وزیراعظم کا کہنا تھا ہمارے 5سال مکمل ہوں گے تو سب سے پہلے صحت کا انقلاب آئے گا، صحت کارڈ کے بعد نجی سیکٹر بھی اب ہسپتال بنائے گا، ہوسکتا ہے یہ نجی سیکٹر یہاں ہسپتال بنائے ۔مہمند ڈیم سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوروناکے باوجود مہمندڈیم پر تیزی سے کام جاری ہے ، مہمند ڈیم 2025تک مکمل ہوجائے گا، پشاور والوں کو سستی بجلی میسرآئے گی ۔بھاشا ڈیم سمیت متعدد بڑے ہائیڈرو پاور منصوبوں پر کام ہو رہا ہے ، 2028 تک 10 بڑے پانی کے پراجیکٹ مکمل ہو جائیں گے ۔عمران خان نے کہا کہ آئی پی پیزکے ساتھ معاہدوں کوازسرنو دیکھ رہے ہیں، کوشش ہے عوام کوسستی بجلی فراہم کر سکیں،آئی پی پیزکے ساتھ نئے معاہدے کرکے کافی بچت کی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی حکومتوں نے معاہدے کرکے آئی پی پیزسے پیسے کھائے ، جس قیمت پربجلی بن رہی ہے ، اس سے کم قیمت پر فروخت ہورہی ہے ۔، وزیر اعظم نے کہا کہ ہائوسنگ کے شعبے میں بھی کام تیزی سے جاری ہے ، بینک لوگوں کو قرضے دے رہے ہیں تاکہ ہر شخص کا ذاتی گھر کا خواب پو را ہو اس کے ساتھ ساتھ نیا پاکستان ہائوسنگ پروگرام کے تحت مزدوروں کیلئے مزید گھر تعمیر ہو نگے ۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں صنعتی ورکرز کیلئے فلیٹس کا منصوبہ 2011سے اس لئے رکا ہوا تھا کہ یہ غریبوں کیلئے بن رہے تھے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت چونکہ غریبوں کی فلاح و بہبود کو اولیت دیتی ہے اس لئے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا گیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا کی موجودہ لہر کم ہو چکی، احتیاط جاری رکھی تو سیاحت سمیت سب شعبے کھل جائیں گے ۔مہمند ڈیم کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے عمران خان نے کہا ہمارے دور میں شروع ہونے والے 10 ڈیم 2028 میں مکمل ہوجائیں گے ،ماضی کی حکومتوں نے جلد بازی میں معاہدے کرکے آئی پی پیز سے پیسے کمائے ،پانی،اناج اور ماحولیات جیسے مسائل ڈیموں کی تعمیر سے حل ہوں گے ،فوڈ سکیورٹی کے لئے ہم مکمل منصوبہ لے کر آئے ہیں،ڈیموں کی تعمیر سے 80 لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہو سکے گی۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ محمودخان،وزیر مملکت اطلاعات فرخ حبیب بھی موجود تھے ۔وزیر اعظم نے کہا ہمارے لئے سب سے سستی بجلی پیدا کرنے کا ذریعہ بڑے ڈیم تھے لیکن اس جانب توجہ نہیں دی جا سکی،اللہ نے ہمیں پانی دیا ہے ملک بھر میں چھوٹے بڑے ڈیم بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا آبادی میں اضافہ سے فوڈ سکیورٹی کامسئلہ ہے ،گندم میں خودکفیل ملک ہونے کے باوجود گندم درآمد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے لیکن کرنی پڑی۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا ہم نے کووڈ 19 کے دوران سب سے زیادہ توجہ اس بات پر مرکوز کی کہ روزگار متاثر نہ ہو اس لئے ہم نے مکمل لاک ڈاؤن نہیں لگایا،پڑوسی ملک بھارت میں اس کے نتائج سامنے ہیں،انہوں نے تمام پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ ماسک پہنیں،اگر ہم تیسری لہر کو کنٹرول کرلیں اور ماسک پہنیں تو پورا ملک کھول سکتے ہیں۔قبل ازیں وزیر اعظم نے مہمند ڈیم کے دورہ کے موقع پر جاری کام کا جائزہ لیا، چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل(ر) مزمل حسین نے منصوبے پر پیشرفت کے حوالے سے وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نے 2مئی 2019 کو رکھا تھا ۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان سے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ملاقات کی جس میں قانون سازی سے متعلقہ امور اور آئندہ بجٹ اجلاس کے حوالے سے گفتگو کی گئی ۔سپیکر نے وزیر اعظم کو ای سی او ممالک کی پارلیمانی اسمبلی کی کانفرنس کے پاکستان میں انعقاد کے بارے میں آگاہ کیا ،سپیکر نے وزیر اعظم کو کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی دعوت دی۔

