Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • مقامی افراد کا جنازے کا بائیکاٹ، سرگودھا کیس کے ملزم کو دفن کی جگہ دینے سے انکار
    • ایران نے 9 دن میں 4 کروڑ بیرل تیل برآمد کر دیا
    • گلگت بلتستان میں 6-k چوٹی پر برفانی تودہ گرنے سے فرانسیسی کوہ پیما جاں بحق
    • پاکستان نے 435 کلومیٹر آئل پائپ لائن کی منظوری دے دی
    • جاپان کے شمالی حصے میں 6.9 شدت کا زلزلہ
    • 9 محرم آج پاکستان بھر میں مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے
    • ڈونلڈ ٹرمپ 2026 فیفا ورلڈ کپ فائنل میں ٹرافی پیش کریں گے
    • وینزویلا میں 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلے، کاراکاس کے قریب عمارتوں کو نقصان
    • سالگرہ پر شوہر کے ساتھ عمرہ، نمرہ خان کا خواب پورا ہوگیا
    • ایلون مسک دنیا کے پہلے ٹریلینئر کا اعزاز کھو بیٹھے
    • ورلڈ کپ 2026: ایک ہی خاندان کے دو بھائی مختلف ممالک کی جانب سے مدمقابل
    • خطے میں حالات بہتر، کویت میں امریکی سفارتخانے کی قونصلر اور سفارتی خدمات بحال
    • گھانا کے خلاف انگلینڈ کی مایوس کن کارکردگی کالے جادو‘ کے چرچے
    • سائنسی تحقیق میں سپر ماڈل بیلا حدید کے چہرے کے خدوخال 94.35 فیصد مثالی تناسب سے ہم آہنگ قرار پائے، جسکے بعد انہیں دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں سرفہرست قرار دیا گیا
    • قومی آل راؤنڈر شاداب خان کا لنکاشائر کے ساتھ معاہدہ
    • ریکارڈ گرمی نے فرانس میں بجلی کا بحران پیدا کر دیا
    • ایئربس کے وِنگ میں دراڑوں کے خدشات، ایمریٹس کا A380 طیاروں کا معائنہ کرنے کا فیصلہ
    • اسرائیل کے وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکی مطالبے کے باوجود فوج لبنان سے واپس نہیں جائے گی
    • پاور ہٹنگ ٹریننگ کے لیے قومی کھلاڑی امریکا جا سکتے ہیں۔
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    تلخ لہجے میں جب کوئی بولے

    By Daily Khabrainجنوری 26, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    سید سجاد حسین بخاری
    وزیراعظم نے 23جنوری کو عوام کے 13سوالوں کے 90منٹ تک جواب دیئے اور مفصل گفتگو کی۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے دل کی بھڑاس بڑے تلخ لہجے میں خوب نکالی۔ ان کے 90منٹ کے ٹی وی پروگرام میں اپوزیشن، عدلیہ، پی ڈی ایم، ٹی ایل پی، این آر او، میڈیا، مہنگائی، ملکی معیشت، ایف بی آر، غربت، کارپوریٹ سیکٹر، خوراک کا بحران، نوازشریف کی واپسی، حکومت کی مدت اور اگلی حکومت کا دعویٰ موضوع گفتگو رہے۔
    وزیراعظم کی ٹی وی گفتگو ختم ہوتے ہی سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر بحث شروع ہوگئی۔ حمایت اور مخالفت کرنے والوں نے ایک دوسرے کو خوب لتاڑا مگر کچھ معتدل لوگوں نے بھی ٹی وی پروگراموں پر گفتگو کی اور انہوں نے چند معقول سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مثلاً وزیراعظم کو اچانک ٹی وی پروگرام کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ کیا اس گفتگو کا یہ وقت مناسب تھا؟ کیا سوال جان بوجھ کر تلخ رویے کیلئے کرائے گئے تھے؟ کیا وزیراعظم کو کوئی بڑا مسئلہ یا تھریٹ تو درپیش نہیں ہے؟ سب سے زیادہ بحث وزیراعظم کے تلخ لہجہ اور سڑکوں پر نکلنے کی ہورہی ہے۔ مزید سوالات بھی ہیں کہ کیا وزیراعظم کو اپنی حکومت ختم ہوتے نظر آرہی ہے؟ یا اس وقت ان کے خلاف کوئی سازش ہورہی ہے؟ جس کا انہیں علم ہوگیا ہے تو انہوں نے طیب اردگان کی طرح فوراً عوام کو اعتماد میں لیا ہے۔
    اس تقریر کی میری نظر میں دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ چند دن قبل مسلم لیگ (ن) کے جن چار بڑے رہنماؤں نے مقتدر قوتوں کو اپنی خدمات پیش کی تھیں یا تو ان کی پیشکش پر غور ہونا شروع ہوگیا ہے یا پھر عدلیہ کی طرف سے شریف برادران کے مقدمات کی بابت کسی نئی چیز کی وزیراعظم کو اطلاع دی گئی ہے جس میں نوازشریف کی تاحیات نااہلی کی سزا کا خاتمہ بھی ہوسکتا ہے ورنہ اس وقت وزیراعظم کو بڑا پُرسکون ہونا چاہیے تھا کیونکہ اپوزیشن تقسیم ہوچکی ہے، تحریک عدم اعتماد کا ابھی حتمی فیصلہ اپوزیشن نے نہیں کیا، لانگ مارچ فی الحال نہیں ہورہا، خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے دھڑے پرویز خٹک، ترکئی فیملی، عاطف خان اور محمود خان گروپ سب خاموش ہیں۔ پنجاب میں بھی جہانگیر ترین گروپ بھی حکومت کے ساتھ ہے۔ حکومتی اتحادی بھی مطمئن اور پُرسکون، فوج اور حکومت بھی ایک صفحے پر ہیں بلکہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے یہ دعویٰ مسلسل کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ حکومت، فوج اور عدلیہ متحد ہیں جو عمران خان کی خوش قسمتی ہے مگر پھر اچانک سب کچھ کیسے ہوگیا؟ اور عمران خان کو سڑکوں پر آنے کی نوبت کیوں پیش آرہی ہے؟ کیا کوئی بڑی سازش تو نہیں ہورہی؟ اگر ہے تو کون کررہا ہے؟ میری نظر میں اس وقت ملک میں حکومت مخالف کسی قسم کی تحریک کا کوئی امکان نہیں ہے اور نہ ہی آئندہ آنے والے بقیہ 18مہینوں میں کیونکہ حکومت کا یہ آخری سال چل رہا ہے اور اپوزیشن بھی حکومت نہیں گرائے گی۔ مجھے اصل مسئلہ عدلیہ کی طرف سے نظر آرہا ہے کہ شاید وزیراعظم کو کرپٹ ٹولے کے مقدمات میں التواء اچھا نہیں لگ رہا کیونکہ عمران خان کی زندگی کا واحد مقصد شریف برادران اور زرداری خاندان سے لوٹی ہوئی دولت واپس کرانا اور انہیں سزائیں دلوانا مقصود تھا جو ساڑھے تین سالہ اُن کے دورِ حکومت میں تمام تر کاوشوں کے باوجود نہیں ہوسکا اور اسی رفتار کو محسوس کرتے ہوئے انہیں یہ محسوس ہوا ہے کہ شاید ان کے بقیہ دور میں بھی ان کے مخالفین کے مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوگا۔ اس لئے انہوں نے شہزاد اکبر کو بھی فارغ کردیا ہے۔
    اب اسی مقصد کیلئے انہوں نے وزارتِ قانون کی معرفت کریمنل پروسیجر کوڈ میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں جن کا عنقریب اعلان وزیراعظم خود کریں گے اور ان قوانین میں ترمیم کا بڑا مقصد ہر مقدمے کی سماعت کا وقت متعین کرنا ہے تاکہ سالوں تک لٹکنے والے مقدمات کے فیصلے چند مہینوں میں ہوں اور ملزموں کو بروقت سزا وجزاء کے عمل سے گزارا جاسکے اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کہ ہمارے عدالتی نظام میں مزید نئے قوانین کی ضرورت ہے۔ عدلیہ سے جڑی وکلاء برادری اور سائلین بھی برابر کے قصووار ہیں۔ وزیراعظم کی تقریر کا آخری نقطہ اگلی حکومت کا تھا کہ اگلی حکومت ان کی ہوگی۔ بے شک ان کی ہوگی مگر کس بنیاد پر؟ کیا 50لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں مل گئیں؟ کیا آئی ایم ایف سے چھٹکارا مل گیا؟ کیا پٹرول، ڈالر، آٹا، دالیں، چینی، کھادیں سستی ہوگئیں؟ کیا مزدور سے لیکر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگیا؟ کیا ترقیاتی منصوبے کسی شہر میں نظر آرہے ہیں؟
    میں نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں محسوس کیا ہے کہ وزیراعظم کو غیروں سے نہیں اپنی جماعت کے لوگوں سے خطرہ ہے جن قابل منتخب لوگوں کو انہوں نے (مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق)، اور پی پی چھوڑ کر آنے والے لوگوں) ٹکٹیں دیکر منتخب کرایا تھا اور پھر کابینہ میں بھی انہی لوگوں کو شامل کیا اور غیرمنتخب مشیروں کی لائن بھی لگائی ہوئی ہے۔ یہ سب اُن لوگوں کے کرشمے ہیں کہ کمزور ترین اپوزیشن کی موجودگی، بہتر معیشت، بہترین برآمدات میں اضافے، 37ارب ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی، صحت اور راشن کارڈ کے باوجود انہیں سڑکوں پر نکلنے کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟ اور وزیراعظم عمران خان ایک بات یاد رکھیں جب آپ سڑکوں پر نکلیں گے تو موجودہ کابینہ میں سے سوائے پی ٹی آئی کے دو تین وزیروں کے کوئی وزیر، مشیر یا مانگے تانگے کے ارکان اسمبلی آپ کے ساتھ نہیں ہوں گے، وہی پرانے کارکن آپ کیلئے آگے آئیں گے جن کو آپ بھول چکے ہیں۔
    وزیراعظم صاحب! آپ سے گزارش ہے کہ قابل منتخب (Electable) اور مانگے تانگے کے ارکان اسمبلی کے بجائے اپنی نوجوان بریڈ کو میدان میں اُتاریں۔ بے شک آپ ایک الیکشن ہار جائیں گے مگر اگلے الیکشن میں آپ دوتہائی اکثریت سے کامیاب ہوں گے۔اس موقع پر مجھے میرے ایک رفیقِ کار اورممتازشاعر یونس عدیم کا خوبصورت شعر یاد آرہا ہے:
    تلخ لہجے میں جب کوئی بولے
    لے کے قاصد بھی کیا جواب آئے
    (کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      مقامی افراد کا جنازے کا بائیکاٹ، سرگودھا کیس کے ملزم کو دفن کی جگہ دینے سے انکار

      ایران نے 9 دن میں 4 کروڑ بیرل تیل برآمد کر دیا

      جاپان کے شمالی حصے میں 6.9 شدت کا زلزلہ

      وینزویلا میں 7.2 اور 7.5 شدت کے زلزلے، کاراکاس کے قریب عمارتوں کو نقصان

      ایلون مسک دنیا کے پہلے ٹریلینئر کا اعزاز کھو بیٹھے

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.