Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ایران پر نئی جارحیت کا پہلے سے کہیں زیادہ سخت جواب دیں گے: ریئر ایڈمرل حبیب اللہ سیاری
    • حکومت کا بجلی صارفین کے میٹرز کیو آر کوڈ سے منسلک کرنے کا فیصلہ
    • روزانہ مچھلی کے تیل کے کیپسول کھانے سے صحت کو فائدہ ہوتا ہے؟
    • جب تک 1967 سے پہلے کی فلسطینی ریاست نہیں بن جاتی، پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا وزیراعظم اسحاق ڈار کا امریکہ میں اعلان
    • محرم الحرام کے چاند سے متعلق رویت ہلال ریسرچ کونسل نے پیشگوئی کر دی
    • گوجرانوالہ میں عید کے روز عوامی مقام پر ڈانس کرتے ویڈیو بنانے والے 2 ٹک ٹاکر گرفتار
    • دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی بندش، کراچی شہر کو پانی کی فراہمی معطل
    • نیتن ہاہو نے اسرائیلی فوج کو لبنان میں کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کردی
    • امریکا: روٹی خریدنے کیلئے نکلے شخص کی قسمت چمک اٹھی
    • پی آئی اے کا بعد از حج آپریشن شروع، پہلی پرواز جدہ سے کراچی پہنچ گئی
    • بشریٰ انصاری نے کپل شرما کے شو پر تنقید کیوں کی؟
    • خواجہ آصف کے ٹویٹ کا نوٹس ، لیسکو بورڈ نے اعلیٰ سطح انکوائری کا حکم دے دیا
    • کراچی پشاور اور لاہور دیکھ لیں اور خود ہی فیصلہ کریں سعد رفیق کا اسکردو میں انتخابی جلسے سے خطاب
    • سعودی عرب نے نئے عمرہ سیزن کے لیے ویزا درخواستوں کا آغاز کر دیا
    • ایران نے یقین دہانی کرائی وہ ایٹمی ہتھیار نہیں خریدے گا، امریکی صدر
    • عرفات منہاس کا پہلے ہی میچ میں 5 وکٹیں لیکر 42 سال پر انار یکارڈ توڑ دیا
    • حج مشکل نہیں تھا، حج کے دوران سیلفیوں نے تھکا دیا: وسیم اکرم
    • بجٹ کے بعد کون سے موبائل فون سستے ہو رہے ہیں؟ اہم خبر
    • ایسی کینسر ویکسین تیار جو مریضوں کی رسولی کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے
    • معروف بھارتی اداکار اجیت کمار کی والدہ انتقال کر گئیں
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ماہی گیروں کی گرفتاری انسانی المیہ ہے، ایچ آر سی پی

    By Khabrain Newsاپریل 18, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور:

    ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے پاکستان اور بھارت کے درمیان سمندری سرحدوں پر غیر ارادی طور پر پھنس جانے والے ماہی گیروں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک جامع علاقائی پالیسی فریم ورک جاری کر دیا ہے۔

    اس فریم ورک میں دونوں ممالک کے مابین تنازعات کی بھینٹ چڑھنے والے غریب ماہی گیروں کی حالتِ زار، جیلوں میں ان کے ساتھ روا رکھے گئے امتیازی سلوک اور ان کے خاندانوں پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کو تفصیل سے اجاگر کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ہر سال درجنوں پاکستانی اور بھارتی ماہی گیر بحیرہ عرب میں غیر ارادی طور پر سمندری حدود عبور کرنے کے جرم میں گرفتار ہوتے ہیں، جن میں اکثریت غریب ساحلی آبادیوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہوتی ہے۔ ان ماہی گیروں کو اکثر طویل عرصے تک بغیر مقدمے کے قید رکھا جاتا ہے اور وہ اپنے خاندانوں سے مکمل طور پر کٹ کر رہ جاتے ہیں۔

    ایچ آر سی پی نے اپنی رپورٹ میں زور دیا ہے کہ ماہی گیروں کی گرفتاری کو ایک انسانی مسئلہ سمجھا جائے، نہ کہ قومی سلامتی یا سیاسی تنازع کا معاملہ۔ کمیشن کی ڈائریکٹر طاہرہ حسن کے مطابق، یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے، جسے مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ماہی گیروں کی گرفتاری کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کے درمیان سمندری حدود کی غیر واضح تقسیم ہے۔ اکثر ماہی گیر جدید نیویگیشن کے آلات سے محروم ہوتے ہیں اور لاعلمی میں مخالف ملک کی حدود میں داخل ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ ایک بار قید ہونے کے بعد، نہ صرف وہ برسوں جیل میں سڑتے ہیں بلکہ ان کے خاندان بھی شدید مالی اور جذباتی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔

    ایچ آر سی پی کی دو سالہ تحقیق، 100 سے زائد متاثرہ خاندانوں کے انٹرویوز اور بین الاقوامی قوانین کے جائزے پر مبنی اس رپورٹ میں متعدد ٹھوس تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ ان میں ماہی گیروں کی گرفتاری کی صورت میں 24 گھنٹوں کے اندر اہلِ خانہ اور قونصلر حکام کو اطلاع دینا، سمندری حدود کی واضح نشاندہی، سرحدی علاقوں میں مشترکہ نگرانی، جیلوں میں تشدد کی روک تھام، طبی سہولیات کی فراہمی، اور ماہی گیروں کو ان کے خاندانوں سے رابطے کی اجازت شامل ہیں۔

    رپورٹ میں دونوں ملکوں کے ماہی گیروں کے خاندانوں کی دردناک داستانیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ کراچی کی مچھر کالونی کی ایک خاتون نے بتایا کہ ان کا بیٹا 2019 سے بھارتی جیل میں قید ہے اور چھ سال سے نہ کوئی خط ملا، نہ بیٹے کی کوئی خبر۔

    دوسری جانب، بھارتی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والے ماہی گیر بھارت ماجیتھیا نے بیان دیا کہ پاکستانی کوسٹ گارڈز نے انہیں گولیوں سے دھمکا کر گرفتار کیا اور بعد میں 60 قیدیوں کو ایک ہی سیل میں بند کر دیا گیا۔

    رپورٹ میں یکم جنوری 2025 تک کے تازہ ترین اعداد و شمار پیش کیے گئے ہیں، جن کے مطابق پاکستان میں 266 بھارتی قیدی موجود ہیں جن میں 217 ماہی گیر ہیں، جبکہ بھارت میں 462 پاکستانی قیدی قید ہیں جن میں 81 ماہی گیر شامل ہیں۔ ان میں سے اکثریت ایسے افراد کی ہے جنہوں نے اپنی سزائیں مکمل کر لی ہیں، مگر دونوں ممالک کے مابین رسمی سفارتی تبادلوں کی سست رفتاری کے باعث ان کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی۔

    ایچ آر سی پی نے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ دیں اور سارک کے پلیٹ فارم پر مشترکہ اقدامات کرتے ہوئے ایک دوطرفہ ٹاسک فورس قائم کریں، جو ماہی گیروں کی گرفتاری، قانونی معاونت، اور جلد از جلد رہائی کے لیے عملی اقدامات کرے۔

    رپورٹ میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ماہی گیروں کو جدید نیویگیشن آلات فراہم کیے جائیں تاکہ وہ سمندری حدود کی خلاف ورزی سے بچ سکیں۔

    ماہی گیروں کی قید کا یہ مسئلہ سرکریک جیسے متنازعہ علاقے سے بھی جڑا ہوا ہے، جو سندھ اور بھارتی ریاست گجرات کے درمیان واقع ہے۔ یہاں کے پانی ماہی گیری کے لیے نہایت موزوں سمجھے جاتے ہیں، اور دونوں جانب کے غریب ماہی گیر ان پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم، یہ علاقہ دونوں ممالک کی نیوی کے درمیان کشیدگی کا مستقل مرکز بھی رہا ہے۔

    ایچ آر سی پی کی رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ ماہی گیروں کو مجرم سمجھنے کے بجائے ایک انسانی ہمدردی کے جذبے سے دیکھا جانا چاہیے۔ ان کی گرفتاری اور قید صرف قانونی یا سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ ہے، جس کے حل کے لیے ایک مستقل، شفاف اور انسان دوست فریم ورک تشکیل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    اگر پاکستان اور بھارت واقعی خطے میں امن، معاشی ترقی اور انسانی حقوق کی پاسداری چاہتے ہیں تو انہیں ماہی گیروں کے مسئلے پر فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ یہ قیدی محض خیرسگالی کے وقتی اقدامات کے نہیں، بلکہ مستقل اور منظم انسانی تحفظ کے مستحق ہیں۔

    Khabrain News

    Keep Reading

    حکومت کا بجلی صارفین کے میٹرز کیو آر کوڈ سے منسلک کرنے کا فیصلہ

    محرم الحرام کے چاند سے متعلق رویت ہلال ریسرچ کونسل نے پیشگوئی کر دی

    گوجرانوالہ میں عید کے روز عوامی مقام پر ڈانس کرتے ویڈیو بنانے والے 2 ٹک ٹاکر گرفتار

    تازہ ترین

    حکومت کا بجلی صارفین کے میٹرز کیو آر کوڈ سے منسلک کرنے کا فیصلہ

    گوجرانوالہ میں عید کے روز عوامی مقام پر ڈانس کرتے ویڈیو بنانے والے 2 ٹک ٹاکر گرفتار

    دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی بندش، کراچی شہر کو پانی کی فراہمی معطل

    پی آئی اے کا بعد از حج آپریشن شروع، پہلی پرواز جدہ سے کراچی پہنچ گئی

    خواجہ آصف کے ٹویٹ کا نوٹس ، لیسکو بورڈ نے اعلیٰ سطح انکوائری کا حکم دے دیا

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.