واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ بندی کی مدت میں اضافے سے متعلق کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔
امریکی جریدے ‘نیویارک ٹائمز’ کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی معاملے پر غور کے لیے وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں صدر ٹرمپ کی صدارت میں دو گھنٹے طویل اہم سرجوڑ اجلاس ہوا۔ تاہم، ایران معاہدے پر صدر ٹرمپ کا فیصلہ سامنے نہ آنے کے باعث یہ بیٹھک بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئی۔
دوسری جانب، وائٹ ہاؤس نے بھی سچویشن روم میں ہونے والے اس اہم اجلاس کے اختتام کی توثیق کر دی ہے، مگر اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ذمہ داران کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ صرف اسی معاہدے کی منظوری دیں گے جو مکمل طور پر امریکی شرائط کے عین مطابق ہوگا۔ حکام نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور تہران کے ساتھ کوئی بھی ڈیل صرف امریکی مفادات اور ٹرمپ کی شرائط کے دائرہ کار میں ہی ممکن ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے ایران کی سمندری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی پابندیوں کے باعث رکے ہوئے بحری جہاز اب واپس لوٹ سکتے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے تمام بحری بارودی سرنگیں بھی صاف کر دی جائیں گی۔
