بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں، بالخصوص خواتین، کو سوشل میڈیا اور خفیہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کے انکشافات نے ایک بار پھر اس خطرناک رجحان کو بے نقاب کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق آج کی جنگ صرف میدانوں میں نہیں بلکہ موبائل فون کی اسکرینوں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی لڑی جا رہی ہے، جہاں نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی کے مطابق کالعدم بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں جدید ٹیکنالوجی اور خفیہ ایپلی کیشنز کے ذریعے نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنسا رہی ہیں۔ ان کے مطابق تنظیم کے کارندے “زنگی” ایپ کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں جبکہ “سنگل” ایپ سے آپریشنل منصوبہ بندی اور “ڈیلٹا چیٹ” کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “آج دشمن صرف گولی نہیں چلا رہا بلکہ سوشل میڈیا پر بیانیہ تشکیل دے رہا ہے اور ٹرینڈز کے ذریعے نوجوانوں کی سوچ پر اثرانداز ہو رہا ہے۔”
یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب چند عرصے قبل کراچی میں پولیس نے ایک کم عمر لڑکی کو مبینہ خودکش حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں حراست میں لیا۔ لڑکی کو کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے فیس بک اور انسٹاگرام سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے متاثر کیا اور اسے یہ باور کرایا گیا کہ حملہ کرنے سے اسے عزت اور شہرت حاصل ہوگی۔
سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن کے مطابق لڑکی کو کراچی جاتے ہوئے ایک معمول کی چیکنگ کے دوران روکا گیا، جہاں ابتدائی پوچھ گچھ میں اس کے شدت پسند عناصر سے روابط سامنے آئے۔ حکام نے اسے ملزم کے بجائے متاثرہ فرد قرار دیتے ہوئے ریاستی تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں کالعدم تنظیموں نے خواتین کو بھی اپنی کارروائیوں میں استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ 2022 میں کراچی یونیورسٹی کے قریب ایک خاتون خودکش حملہ آور نے تین چینی اساتذہ کو ہلاک کر دیا تھا، جبکہ 2024 میں تربت میں ایک کارروائی کے دوران مبینہ خاتون خودکش بمبار عادلہ بلوچ کو بچایا گیا تھا۔
عادلہ بلوچ کے بیان نے شدت پسند تنظیموں کے بھرتی کے طریقہ کار سے متعلق اہم حقائق سامنے لائے۔ ان کے مطابق انہیں نظریاتی رہنمائی کے نام پر گمراہ کیا گیا، پہاڑوں میں قائم خفیہ ٹھکانوں پر رکھا گیا اور جذباتی دباؤ ڈال کر یہ یقین دلایا گیا کہ خودکش حملہ ایک قابلِ فخر اور جائز عمل ہے۔
عادلہ بلوچ نے اپنے بیان میں کہا، “بلوچ خواتین اپنی مرضی سے نہیں جاتیں، انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے، دھوکا دیا جاتا ہے اور جذباتی طور پر پھنسایا جاتا ہے۔”
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا کہ بعض سماجی اور سیاسی پلیٹ فارمز کو بھی نوجوانوں تک رسائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم تنظیموں نے جنگی حکمت عملی میں خواتین کے استعمال کو باقاعدہ حصہ بنا لیا ہے اور نوجوانوں کو تشدد کی راہ پر ڈالنے کے لیے مختلف ذرائع اختیار کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم، ترقی اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ “ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں بلکہ وہ اپنے مستقبل کی تعمیر میں کردار ادا کریں،” انہوں نے کہا۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے دور میں آن لائن انتہاپسندی اور ڈیجیٹل بھرتی ایک سنجیدہ چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے والدین، تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
