امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدہ: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی
امریکہ اور ایران کے مابین ایک عبوری امن معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی مہم دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی کے باعث قیمتوں میں عارضی استحکام یا اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم معاہدے پر دستخط ہوتے ہی قیمتیں دوبارہ نیچے آ گئیں۔
-
تیل کی قیمتوں میں گراوٹ: ایشیائی منڈیوں میں ٹریڈنگ کے دوران برینٹ کروڈ (Brent crude) کی قیمتوں میں نمایا کمی دیکھی گئی۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی گر کر تقریباً 75.81 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔
-
صدر ٹرمپ کا انتباہ اور مارکیٹ کا ردعمل: گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو وارننگ دی تھی کہ اگر ایرانی قیادت نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی تو امریکہ دوبارہ بمباری کا سلسلہ شروع کر سکتا ہے۔ اس بیان کے بعد بدھ کو برینٹ کروڈ کی قیمت عارضی طور پر 81 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، لیکن عبوری معاہدے پر باقاعدہ دستخط کے بعد قیمتیں دوبارہ گر گئیں۔
-
معاہدے کے اثرات: اس عبوری معاہدے (ایم او یو) کے تحت دونوں ممالک کے درمیان 60 دن کی گفت و شنید کا عمل شروع ہوا ہے، جس کے دوران آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے ذریعے تیل اور گیس کی بلا محصول ترسیل کی اجازت ہوگی۔ مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس بات پر مطمئن ہیں کہ دونوں ممالک نے توقع سے پہلے اس فریم ورک پر دستخط کر دیے ہیں۔
