جرمنی کا آبنائے ہرمز میں ممکنہ آپریشن کے لیے بحیرہ احمر میں جنگی جہاز بھیجنے کا اعلان
جرمنی کے وزیرِ دفاع بورس پسٹوریئس (Boris Pistorius) نے برسلز میں نیٹو وزرائے دفاع کے اجلاس میں آمد کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ جرمنی نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ فوجی مشن کی تیاری کے طور پر اپنے دو جنگی جہاز بحیرہ احمر (Red Sea) کی طرف روانہ کر دیے ہیں۔
-
بھیجے گئے جہاز اور عملہ: وزیرِ دفاع کے مطابق، جرمنی کا مائن سویپر (بارودی سرنگیں صاف کرنے والا جہاز) ‘فلڈا’ (Fulda) اور سپلائی کرنے والا بحری جہاز ‘موزیل’ (Mosel) اس وقت نہر سویز سے گزر کر بحیرہ احمر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان جہازوں پر لگ بھگ 140 جرمن فوجی، غوطہ خور اور پانی کے اندر کام کرنے والے ڈرونز موجود ہیں۔
-
اقدام کا مقصد: بورس پسٹوریئس نے واضح کیا کہ یہ ایک پیشگی اور احتیاطی اقدام ہے تاکہ اگر مستقبل میں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی بین الاقوامی مشن تشکیل پاتا ہے، تو جرمنی کا ردعمل کا وقت (Response Time) کم سے کم ہو اور وہ فوری کارروائی کے قابل ہو سکے۔
-
مشروط آپریشن: جرمن وزیرِ دفاع نے زور دے کر کہا کہ اس مشن میں باقاعدہ حصہ لینے کے لیے چند اہم شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے۔ ان میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت، اقوامِ متحدہ (UN) یا یورپی یونین (EU) کی جانب سے واضح بین الاقوامی مینڈیٹ، ایران اور عمان کی باقاعدہ اجازت، اور جرمن پارلیمنٹ (Bundestag) کی منظوری شامل ہیں۔
