یو اے ای کابینہ کا فیصلہ: بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کی کم از کم عمر 15 سال مقرر
متحدہ عرب امارات (UAE) کی کابینہ نے بچوں کو ایک محفوظ، متوازن اور عمر کے لحاظ سے موزوں ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے کے لیے ایک نئی قرارداد منظور کی ہے، جس کے تحت بچوں کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی اور استعمال کو منظم کیا گیا ہے۔
اہم تفصیلات:
عمر کی حد کا تعین: اس نئی قانونی قرارداد کے تحت یو اے ای میں سوشل میڈیا استعمال کرنے کی کم از کم عمر 15 سال مقرر کی گئی ہے۔ 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پر ذاتی اکاؤنٹس بنانے، انہیں چلانے یا استعمال کرنے پر مکمل پابندی ہوگی۔
فیچرز پر پابندی: اس عمر سے چھوٹے بچوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے مکمل فیچرز (جیسے کہ کمنٹس کرنا، پوسٹ شیئر کرنا، پبلک گروپس یا اوپن چینلز کا حصہ بننا) تک رسائی نہیں دی جائے گی۔
15 سے 16 سال کے نوجوانوں کے لیے قوانین: 15 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی حاصل ہوگی، لیکن ان کے اکاؤنٹس پر خصوصی حفاظتی اقدامات لاگو ہوں گے جن میں عمر کے مطابق مواد کی فلٹرنگ، نامعلوم صارفین کے ساتھ بات چیت پر پابندی اور اسکرین ٹائم (استعمال کا وقت) محدود کرنا شامل ہے۔
والدین کی اجازت پر استثنیٰ نہیں: قانون کے مطابق اگر والدین اپنے 15 سال سے کم عمر بچے کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دے بھی دیں، تب بھی اسے اس قانون سے کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ پابندیوں سے بچ سکے گا۔
12 ماہ کی مہلت: کابینہ کی اس قرارداد میں سوشل میڈیا کمپنیوں اور پلیٹ فارمز (جیسے فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب) کو ان نئے معیارات پر مکمل عمل درآمد کرنے اور اپنی تکنیکی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ سے زیادہ 12 ماہ (ایک سال) کا عبوری وقت دیا گیا ہے۔
اس اقدام کے بعد متحدہ عرب امارات بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے اور سوشل میڈیا پر سخت قوانین لاگو کرنے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے۔

