امریکا اور دیگر ممالک میں بھارتی شہریوں سے منسلک مبینہ جرائم پیشہ سرگرمیوں کے خلاف کارروائیوں نے ایک بار پھر عالمی سطح پر توجہ حاصل کرلی ہے۔ حالیہ گرفتاریوں اور مقدمات کے بعد بھارتی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی مبینہ سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق بھارتی ریاست گجرات سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ شخص کو فراڈ، منی لانڈرنگ اور دیگر الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ملزم مبینہ طور پر ایک جعلساز گروہ کے لیے مالی سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا تھا۔
حکام کے مطابق اس مبینہ فراڈ کا نشانہ 59 سے 87 سال تک کی عمر کے افراد بنے، جنہیں مجموعی طور پر تقریباً 7.5 ملین ڈالر کا مالی نقصان پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی نژاد ملزم امریکی عدالت میں پیشی کے بعد کینیڈا فرار ہوگیا تھا، تاہم امریکی درخواست پر کینیڈین حکام نے اسے گرفتار کرلیا۔
امریکی اٹارنی بل ایسلی کے مطابق بھارت میں موجود بعض جرائم پیشہ تنظیموں پر ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا سمیت سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی سرگرمیاں صرف بھارت تک محدود نہیں رہیں بلکہ مختلف ممالک میں بھی ان کے روابط سامنے آ رہے ہیں۔
حالیہ گرفتاریوں نے بین الاقوامی سطح پر بھارتی شہریوں سے منسلک جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور ان کے ممکنہ عالمی روابط کے حوالے سے بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ تاہم کسی بھی ملزم پر عائد الزامات عدالت میں ثابت ہونے تک وہ قانونی طور پر بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

