نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 903 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 4,247 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ریسکیو آپریشنز کا چھٹا روز جاری ہے۔
حکام کے مطابق سیلاب اور مٹی کے تودوں سے متاثرہ مختلف اضلاع میں لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ چتوان میں 272، نوالپرسی ایسٹ میں 207، نوالپرسی ویسٹ میں 151، نواکوٹ میں 95، گورکھا میں 62، دھادنگ میں 55، تنہون میں 37 اور راسووا میں 24 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
حکام کے مطابق 10,451 افراد کو اب تک ریسکیو کیا جاچکا ہے، جبکہ 267 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ لاپتا افراد میں مقامی شہریوں کے علاوہ غیر ملکی اور مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں کے کارکن بھی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق لاپتا افراد میں 592 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جبکہ تقریباً 933 ہائیڈرو پاور منصوبوں کے کارکن لاپتا ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں دشوار گزار علاقوں اور زیرِ زمین سرنگوں میں پھنسے افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ تباہی 26 اگست کو نیپال اور چین کے سرحدی علاقے میں آنے والے شدید سیلاب کے بعد شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں دریاؤں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ اور بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تباہی ہوئی۔ ماہرین اور ابتدائی رپورٹس کے مطابق ایک بڑے برفانی تودے/گلیشیئر کے انہدام نے سیلاب کو مزید تباہ کن بنایا۔
دوسری جانب چین کے تبت خطے میں بھی 16 افراد ہلاک اور 546 لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد نیپال اور تبت میں مجموعی ہلاکتیں 919 جبکہ لاپتا افراد کی تعداد 4,793 تک پہنچ جاتی ہے۔
ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم دشوار گزار پہاڑی راستے، ملبہ اور مزید سیلاب کے خدشات امدادی کاموں میں مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

