سابق پاکستانی کپتان اور بیٹنگ ہیڈ کوچ محمد یوسف نے قومی کرکٹرز کی تکنیک پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند سال قبل ہی بابر اعظم سمیت دیگر کھلاڑیوں کی تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کردی گئی تھی، تاہم بعض نام نہاد کوچز نے انہیں ان خامیوں پر کام کرنے کی اجازت نہیں دی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں محمد یوسف نے کہا کہ ان کوچز کی ناکامی نے پاکستان کرکٹ کو موجودہ زوال تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق ایسے کوچز کھیل کے لیے زہر ہیں، ان میں وژن کی کمی ہوتی ہے، یہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی غلط رہنمائی کرتے ہیں۔
محمد یوسف نے قومی کرکٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کھلاڑی یہ سیکھنے کی کوشش نہیں کریں گے کہ کس کی بات سننی ہے اور کس کی نہیں تو ان کے کیریئر توقع سے کہیں پہلے ختم ہوسکتے ہیں۔
سابق بیٹنگ کوچ کے مطابق پاکستانی کھلاڑیوں کی ناقص تکنیک اب بنگلا دیش سے لے کر انگلینڈ تک بری طرح بے نقاب ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن تکنیکی خامیوں کو کئی برس پہلے درست کیا جاسکتا تھا، وہ اب قومی ٹیم کی نمایاں کمزوری بن چکی ہیں اور اس کے باعث پاکستان کرکٹ عالمی سطح پر مشکلات کا شکار ہے۔
محمد یوسف کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ مسلسل تنقید کی زد میں ہے۔ پاکستان کو پہلے ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں اننگز اور 103 رنز سے شکست ہوئی تھی، جبکہ دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں بھی قومی ٹیم انگلینڈ کے 290 رنز کے جواب میں صرف 110 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی تھی۔
قومی ٹیم کی مسلسل خراب بیٹنگ کے بعد کھلاڑیوں کی تکنیک اور کوچنگ کے معیار پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ محمد یوسف کی تنقید نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔
قومی کرکٹرز کی خراب تکنیک پر محمد یوسف برہم، کوچز پر بھی شدید تنقید

