پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈری بلے باز جاوید میانداد سابق وزیراعظم اور اپنے سابق ساتھی عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہوگئے۔
ایک انٹرویو کے دوران جاوید میانداد نے عمران خان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق اور کرکٹ کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ عمران خان کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کے نزدیک عمران خان ایک ایماندار شخص ہیں۔
جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ ’’مجھے پتا ہے عمران خان کرپٹ انسان نہیں ہے، وہ ایک ایماندار آدمی ہے، اگر وہ کرپٹ ہوتا تو بہت کچھ کر سکتا تھا۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عمران خان کو جیل سے باہر نکالنے سے آخر کیا فرق پڑ جائے گا؟ ’’کیا وہ پاکستان کو کھا جائے گا؟‘‘
سابق کپتان نے کہا کہ عمران خان بھی کسی کا بیٹا ہے اور انہیں بار بار یہ خیال آتا ہے کہ وہ اس وقت کس حال سے گزر رہے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور عمران خان ایک دوسرے کے بہت قریب رہے، دونوں نے پاکستان کے لیے طویل عرصے تک ایک ساتھ کرکٹ کھیلی اور انگلینڈ میں کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلی۔
میانداد نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ان کے اور عمران خان کے درمیان ہمیشہ کوئی ذاتی دشمنی یا رقابت رہی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کا مقصد پاکستان کے لیے کھیلنا تھا اور اختلافات کے باوجود ان کا تعلق اچھا رہا۔
انہوں نے متعلقہ حلقوں سے اپیل کی کہ مل بیٹھ کر معاملات کا حل نکالا جائے اور عمران خان کے معاملے کو مزید طول نہ دیا جائے۔
عمران خان اور جاوید میانداد پاکستان کرکٹ کے سنہری دور کے اہم کھلاڑی رہے ہیں۔ دونوں نے 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں پاکستان کی نمائندگی کی اور 1992 کے ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کی تاریخی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
میانداد نے عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ موضوع انہیں بہت جذباتی کر دیتا ہے اور وہ ان کے لیے دعا ہی کر سکتے ہیں۔

