پاکستان کے سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے قومی اوپنر امام الحق کی انجری سے متعلق سنگین دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام الحق کے ماضی میں بھی انجری کے حوالے سے ایسے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2022 کے ملتان ٹیسٹ کے دوران ٹیم کے فزیو نے انہیں پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ امام انجری کا بہانہ بنا سکتے ہیں۔
محمد وسیم نے اپنے یوٹیوب پروگرام میں دعویٰ کیا کہ فزیو نے انہیں بتایا تھا کہ امام الحق جلد انجری کی شکایت کریں گے، اور ان کے مطابق ایسا ہی ہوا۔ سابق چیف سلیکٹر نے مزید کہا کہ کوچز بھی ماضی میں اس حوالے سے شکایات کر چکے تھے۔
محمد وسیم نے موجودہ لارڈز ٹیسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بھی سوالات اٹھائے۔ امام الحق انگلینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ کے پہلے روز فیلڈنگ کے دوران بائیں پنڈلی کی انجری کا شکار ہوئے تھے اور پاکستان کی پہلی اننگز میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اترے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے باضابطہ طور پر تصدیق کی تھی کہ امام الحق کی بائیں پنڈلی میں لو گریڈ کیلِف اسٹرین کی تشخیص ہوئی ہے۔ بورڈ کے مطابق ان کی انجری کے اسکین بھی کیے گئے اور وہ ٹیم کے میڈیکل اسٹاف کی نگرانی میں زیرِ علاج رہے۔
محمد وسیم نے مزید کہا کہ اگر اس طرح کے معاملات بار بار پیش آ رہے ہیں تو ٹیم انتظامیہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ ان کے مطابق ایسے واقعات سے ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے اور ذمہ دار افراد کو معاملے کا جائزہ لینا چاہیے۔
یہ امر اہم ہے کہ امام الحق کے لارڈز ٹیسٹ کی انجری کو جعلی قرار دینے کا دعویٰ محمد وسیم کی جانب سے کیا گیا ہے، جبکہ PCB کی جانب سے اسکین کے بعد انجری کی باضابطہ تصدیق کی گئی ہے۔

