وزیراعظم شہباز شریف نے پمز اسپتال کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں آتشزدگی کے المناک واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ کی روشنی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 اعلیٰ افسران کو فوری معطل کرنے اور ان کے خلاف محکمانہ و فوجداری کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔
29 اگست کو وزیراعظم کی زیرصدارت پمز سانحے پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں ذمہ دار قرار دیے گئے افسران کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی منظوری دی گئی۔
معطل کیے جانے والوں میں پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروسز کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔
وزیراعظم نے معطل افسران کی جگہ نئے افسران کی فوری تعیناتی کی ہدایت کی جبکہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے سی ای او ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی۔

