جعلی یا مشکوک پائلٹ لائسنسوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے 50 پائلٹس کے لائسنس منسوخ جبکہ 33 پائلٹس کے لائسنس معطل کر دیے ہیں۔
وزارتِ دفاع کی جانب سے قومی اسمبلی میں وقفۂ سوالات کے دوران جمع کرائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا کہ پائلٹس کے لائسنسوں سے متعلق الزامات کے بعد یہ کارروائی سول ایوی ایشن رولز 1994 کے تحت کی گئی۔
وزارتِ دفاع کے مطابق پائلٹ لائسنسوں کے معاملے پر برطانیہ، یورپی یونین اور امریکا کی جانب سے پی آئی اے کی بین الاقوامی پروازوں پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں، جس کے نتیجے میں قومی ایئرلائن کو اگست 2020 سے دسمبر 2024 تک تقریباً 200 ارب روپے کے محصولات کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔
حکومت کے مطابق پی آئی اے کو برطانیہ کی مارکیٹ سے بھی محروم ہونا پڑا، جسے قومی ایئرلائن کی سب سے زیادہ منافع بخش بین الاقوامی مارکیٹ قرار دیا گیا۔ پی آئی اے کی غیر موجودگی کا فائدہ حریف فضائی کمپنیوں، جن میں ایمریٹس، قطر ایئرویز، اتحاد ایئرویز، برٹش ایئرویز اور ورجن اٹلانٹک شامل ہیں، کو ہوا۔
وزارتِ دفاع نے مزید بتایا کہ معاملے کا جائزہ لینے اور متعلقہ امور کی نگرانی کے لیے وفاقی کابینہ نے وزیرِ دفاع کی سربراہی میں ایک کابینہ کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔
یہ معاملہ پاکستان کے ہوا بازی کے شعبے کے لیے ایک اہم چیلنج بن گیا تھا اور پائلٹس کے لائسنسوں کی جانچ، تصدیق اور ریگولیٹری نظام پر بین الاقوامی سطح پر سوالات اٹھے تھے۔ موجودہ اقدامات کا مقصد لائسنسنگ نظام پر اعتماد بحال کرنا اور پاکستانی ایئرلائنز کی عالمی رسائی کو بہتر بنانا ہے۔

