انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں 194 رنز کی شکست کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پاکستان نے تین ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے دونوں میچز ہار کر سیریز 0-2 سے گنوا دی ہے، جس کے بعد ٹیم مینجمنٹ اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہنگامی مشاورت کی۔
ذرائع کے مطابق امام الحق اور محمد رضوان کو انگلینڈ سے واپس پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ امام الحق کی پنڈلی کی انجری کا لاہور میں دوبارہ معائنہ بھی متوقع ہے، جبکہ رضوان کی حالیہ خراب فارم بھی زیرِ بحث رہی ہے۔
تیسرے اور آخری ٹیسٹ کے لیے پاکستان کے اسکواڈ میں چھ نئے کھلاڑیوں کو طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان میں صائم ایوب اور عرفات منہاس کے نام نمایاں ہیں، جبکہ فاسٹ بولرز رضا اللہ اور عمران جونیئر کو بھی انگلینڈ طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ مانچسٹر میں ہونے والے آخری ٹیسٹ میں غازی غوری کے بطور وکٹ کیپر شامل ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو تیسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم کی ذمہ داریاں سونپنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ہیسن ایجبسٹن میں پاکستان ٹیم کے ساتھ موجود ہوں گے، جبکہ سابق کپتان اور ریڈ بال ہیڈ کوچ سرفراز احمد بھی اسکواڈ کے ساتھ رہیں گے۔
رپورٹس کے مطابق ہیسن کو ٹیسٹ ٹیم کے معاملات سونپنے کی پیش رفت نے سرفراز احمد کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم یہ فیصلہ مستقل تبدیلی ہے یا صرف آخری ٹیسٹ تک محدود ہے، اس حوالے سے مزید وضاحت متوقع ہے۔
پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبسٹن کرکٹ گراؤنڈ میں شروع ہوگا۔ پاکستان کے پاس اب سیریز میں وائٹ واش سے بچنے کا آخری موقع ہوگا۔

