سابق قومی کرکٹ کپتان شاہد آفریدی نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے المناک واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سرکاری اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے معیار پر سوال اٹھا دیا۔
شاہد آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پمز میں 14 نومولود اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، واقعے کی انکوائری رپورٹ سامنے آچکی ہے، متعلقہ افسران کو معطل کردیا گیا ہے جبکہ فوجداری کارروائی کا حکم بھی دیا گیا ہے، تاہم کوئی بھی کارروائی ان معصوم جانوں کو واپس نہیں لاسکتی۔
سابق کپتان نے سوال اٹھایا کہ اگر سرکاری اسپتال اور اسکول واقعی اتنے ہی اچھے ہیں تو اقتدار میں بیٹھے لوگ اپنے بچوں کو وہاں کیوں نہیں بھیجتے؟ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے ہر شہری کو صحت اور تعلیم کے یکساں معیار کی سہولیات ملنی چاہئیں۔
شاہد آفریدی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پمز کے نومولود وارڈ میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 بچوں کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔ انکوائری کمیٹی کی عبوری رپورٹ میں ادارہ جاتی، انتظامی اور فائر سیفٹی سے متعلق متعدد خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سمیت 8 افسران کو معطل کرنے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے واقعے میں جان بچانے والی اسٹاف نرس رضیہ کے لیے مالی انعام اور سول ایوارڈ کی سفارش بھی کی ہے، جبکہ پمز میں تعینات نجی سکیورٹی کمپنی کے معاہدے اور لائسنس کا بھی جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شاہد آفریدی نے اپنے بیان کے ذریعے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری صحت اور تعلیمی نظام کا معیار ایسا ہونا چاہیے کہ معاشرے کے ہر طبقے کو بلاامتیاز محفوظ اور معیاری سہولیات میسر آسکیں۔

