روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے جنوری 2026 میں اعلان کیا تھا کہ روس فلسطینی عوام کی مدد اور خصوصاً غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ایک ارب ڈالر مختص کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ رقم امریکا میں منجمد روسی اثاثوں سے فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پیوٹن نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ماسکو میں ملاقات کے دوران بتایا کہ روس یہ رقم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ Board of Peace کے ذریعے فلسطینی عوام کی مدد کے لیے دینا چاہتا ہے۔ روسی حکام کے مطابق رقم بنیادی طور پر غزہ کی تعمیرِ نو اور فلسطینی عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بعد میں بھی اس پیشکش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ روس غزہ میں گھروں، کلینکس، اسکولوں اور شہری آبادی کی بنیادی ضروریات کے لیے فنڈز استعمال کیے جانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے شفافیت پر بھی زور دیا۔
روس کا کہنا ہے کہ غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اس کی تجویز کا مقصد فلسطینی عوام کی مدد کرنا ہے۔ روس نے اس سے قبل بھی غزہ کو 800 ٹن سے زائد انسانی امداد فراہم کرنے اور تقریباً 32 امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کا ذکر کیا ہے۔

