امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نئے نقشے کے ذریعے ریاست نیو میکسیکو کو ’نیو امریکا‘ کے نام سے دکھا کر نئی بحث چھیڑ دی۔
ٹرمپ نے 6 ستمبر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر نیو میکسیکو کا نقشہ شیئر کیا، جس میں ریاست کے نام سے لفظ ’میکسیکو‘ کاٹ کر اس کی جگہ ’امریکا‘ لکھا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے بھی ٹرمپ کی یہ پوسٹ اپنے سرکاری ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی۔
ٹرمپ نے بعد میں لکھا کہ بہت سے لوگوں نے نیو میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’نیو امریکا‘ رکھنے کی تجویز دی ہے، جسے انہوں نے ریاست کے لیے زیادہ باوقار اور خوبصورت نام قرار دیا۔
تاہم، یہ واضح ہے کہ نیو میکسیکو کا سرکاری نام تبدیل نہیں ہوا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے ریاست کا نام تبدیل کرنے کے لیے کسی باقاعدہ اقدام یا ایگزیکٹو آرڈر کا اعلان نہیں کیا گیا۔ امریکی صدر کسی ریاست کا نام یکطرفہ طور پر تبدیل نہیں کر سکتے؛ اس کے لیے متعلقہ ریاست میں آئینی و قانونی عمل درکار ہوگا۔
ٹرمپ کے اس اقدام پر نیو میکسیکو کے سیاسی رہنماؤں نے شدید ردعمل دیا۔ ریاست کے ڈیموکریٹ رہنماؤں نے کہا کہ ’نیو میکسیکو‘ نام ریاست کی تاریخ، ثقافت اور شناخت کا حصہ ہے اور اسے مٹایا نہیں جا سکتا۔ گورنر مشیل لوجان گریشم نے بھی کہا کہ ریاست کا نام بحث کے لیے نہیں ہے۔
ٹرمپ کا یہ اقدام جغرافیائی ناموں میں تبدیلی کی ان کی حالیہ مہم کا ایک اور حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل ان کی انتظامیہ نے خلیج میکسیکو کے لیے ’گلف آف امریکا‘ اور جھیل اونٹاریو کے لیے ’لیک امریکا‘ کے نام استعمال کرنے کے اقدامات کیے تھے۔

