ملتان ( خصوصی رپورٹر)پنجاب میں موسم گرما اختتام ہونے کو ہے لیکن ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ غفلت کی نیند سورہا ہے ،موسمی تبدیلی و شدت آنے کے باعث ایچ این ون ایچ ون (سوائن فلو) پھیلنے کا خطرہ سر پرمنڈلانے لگا۔کمزور قوت مدافعت والے افراد وطبی عملہ کے ایچ ون این ون عرف عام سوائن فلو کی ویکسی نیشن بارے تاحال زیرو انتظامات ہیں ۔ستمبر یاپھر اکتوبر کے شروع میں ویکسین کا بہترین وقت ہے۔کیونکہ ویکسین لگنے کے 3 سے 4 ہفتے تک اینٹی باڈیز بنتی ہیں۔چند سال قبل صرف نشتر ہسپتال ملتان میں ایچ ون این ون سے 49 ہلاکتیں ہوئیںاور سینکڑوں مریض رپورٹ ہوئے۔شروع میں طبی عملہ کے لیے ایچ ون این ون سے بچاؤ کے لیے ویکسین فراہم کی گئی۔اب کئی سال سے طبی عملہ اپنی مدد آپ کے تحت ویکسی نیشن کروانے پر مجبور ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ایچ ون این ون ابتداء میں خنزیر سے پھیلا۔اب آسانی سے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو جاتا ہے۔یہ دراصل سانس کی نالی کی بیماری ہے۔جبکہ علامات موسمی فلو کی طرح ہے۔جیسے ناک بہنا،سردرد ،بخار ،گلہ کی سوزش ،جسم شدید درد،تھکاوٹ وغیرہ شامل ہیں۔دائمی مریض،بزرگ،حاملہ خواتین ،بچے و کمزور مدافعت والے اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔بچاؤ کے لیے متاثرہ شخص سے ہاتھ ملانے سے پرہیز کریں۔چھینک آنے پر رومال یا پھر ہاتھ سے منہ کو ڈھانپ کر رکھیں۔مرض کی شکایات پر مستند معالج سے رجوع کریں۔سال میں ایک بار ستمبر یاپھر اکتوبر کے شروع میں انفلوئنزا کی ویکسین ضرور کروا لیں۔
سوائن فلو
