راولپنڈی(سٹی رپورٹر)ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ اور جماعت اسلامی کے 20 ستمبر کے لانگ مارچ کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی انتظامات کے نام پر گزشتہ کئی روز سے سامان سے لدے کنٹینرز، ٹرکوں اور دیگر گڈز ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو مبینہ طور پر تحویل میں لے کر آئی جے پی روڈ، فیض آباد، روات اور ترنول سمیت مختلف مقامات پر کھڑا کیا جا رہا ہے، جس کے باعث گڈز ٹرانسپورٹرز، ڈرائیورز اور سامان کی ترسیل سے وابستہ کمپنیوں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹرز نے حکومت اور متعلقہ انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد گاڑیاں 7 ستمبر سے سامان سمیت روکی گئی ہیں اور انہیں مبینہ طور پر آئندہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران راستے بند کرنے کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے کھڑا رکھا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق مسئلہ صرف گاڑیوں کے کھڑے ہونے تک محدود نہیں بلکہ ان میں موجود کروڑوں روپے مالیت کا سامان بھی مسلسل تاخیر کے باعث خراب ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ گڈز ٹرانسپورٹ کے ذریعے ملک بھر میں ادویات، خوراک، جوسز، دودھ اور دیگر اشیائے ضروریہ، دالیں، چاول، آٹا، گھی، چینی، ٹائلز اور مختلف نوعیت کا تجارتی سامان ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچایا جاتا ہے، تاہم اگر سامان سے بھری گاڑیوں کو کئی کئی روز تک روک کر رکھا جائے تو بالخصوص خراب ہونے والی اشیا کے ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے جبکہ ادویات اور دیگر حساس سامان بھی اپنی مقررہ مدت اور اسٹوریج کی ضروریات کے باعث متاثر ہو سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایک طرف پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات، ٹول ٹیکس، ٹائر، مرمت اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، دوسری جانب تیار مال اور تجارتی سامان سے بھری گاڑیاں کئی کئی روز تک سڑکوں پر روکنے سے گاڑیوں کے مالکان کو کرایوں، ڈرائیوروں کے اخراجات اور کاروباری نقصانات کی مد میں بھاری مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اگر احتجاجی سرگرمیوں کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے راستوں کی سکیورٹی سخت کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے نجی گڈز ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں اور تاجروں کے سامان کو بطور رکاوٹ استعمال کرنا کسی صورت مناسب انتظامی حل نہیں، کیونکہ اس کا براہ راست بوجھ بالآخر عام شہری اور صارف برداشت کرے گا۔ ٹرانسپورٹرز نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے بھی متعدد مقامات پر گڈز گاڑیوں کو روک کر ڈرائیوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرایا جا رہا ہے، جبکہ انہیں گاڑیوں کی روانگی کے حوالے سے واضح معلومات بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔ ٹرانسپورٹرز اور گڈز کمپنیوں کے مالکان نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر حکومت کو راستے بند کرنے کے لیے کنٹینرز اور بھاری گاڑیوں کی ضرورت ہے تو خالی کنٹینرز اور سرکاری وسائل استعمال کرنے کے بجائے ایسی گاڑیوں کو کیوں روکا جا رہا ہے جو پہلے ہی تاجروں کا قیمتی سامان لے کر منزل کی طرف روانہ ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک گاڑی کے رکنے سے صرف اس کا مالک متاثر نہیں ہوتا بلکہ ڈرائیور، کلینر، ٹرانسپورٹ کمپنی، سامان بھیجنے والا تاجر، وصول کرنے والا کاروباری شخص اور بالآخر عام صارف سب متاثر ہوتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر موجودہ صورتحال مزید کئی روز جاری رہی تو خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہونے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے یہ صورتحال مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ سامان کی ترسیل میں تاخیر، مال کے خراب ہونے اور ٹرانسپورٹ کے اضافی اخراجات کا اثر بالآخر صارفین تک منتقل ہوتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ سیاسی احتجاج اور لانگ مارچ اپنی جگہ، لیکن اس کے انتظامات کا بوجھ غریب عوام، تاجروں اور نجی کاروباری شعبے پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت پاکستان، وزارت داخلہ، ضلعی انتظامیہ، پولیس کے اعلی حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سامان سے لدے کنٹینرز اور گڈز ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو فوری طور پر غیر ضروری طور پر روکنے کا سلسلہ ختم کیا جائے، روکی گئی گاڑیوں کی تفصیلات مرتب کرکے انہیں فوری طور پر منزل کی جانب روانہ کیا جائے اور راستے بند کرنے کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں تاکہ ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کو کروڑوں روپے کے ممکنہ نقصان سے بچایا جا سکے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کا کام عوام کو سہولت فراہم کرنا اور کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنا ہے، نہ کہ ایسی گاڑیوں کو کئی کئی روز تک روک کر رکھنا جن میں عوام کے استعمال کی ضروری اشیا موجود ہیں۔ ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی اور خوراک، ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل متاثر ہوئی تو اس کا نقصان صرف گڈز کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات براہ راست عام آدمی کی جیب پر پڑیں گے اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاجی سیاسی سرگرمیوں کے لیے سکیورٹی کے ایسے متبادل انتظامات کیے جائیں جن سے ملکی معیشت، گڈز ٹرانسپورٹ، تاجروں اور عام شہریوں کی روزمرہ ضروریات متاثر نہ ہوں۔
