سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہفتے کی صبح فضائی حملے کا الرٹ جاری کیا گیا، جس کے بعد شہر میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ یمن میں حوثیوں کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد ریاض میں اپنی نوعیت کا پہلا الرٹ ہے۔
سعودی حکام کی جانب سے مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 3 بجے شہریوں کو پیغام بھیجا گیا کہ علاقے کو فضائی خطرہ لاحق ہے اور انہیں گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی گئی۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد سعودی سول ڈیفنس نے الرٹ ختم کردیا۔
اے ایف پی کے صحافیوں کے مطابق الرٹ کے دوران ریاض میں دو دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ تاہم سعودی حکام نے فوری طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ خطرہ کہاں سے آیا یا دھماکوں کی نوعیت کیا تھی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں دوبارہ شدت آئی ہے۔ حوثیوں نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب کے مختلف علاقوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ سعودی قیادت میں اتحاد نے متعدد حملوں میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔
ریاض میں تازہ الرٹ سے قبل سعودی عرب کے جنوبی علاقوں، جن میں خمیس مشیط، ابہا اور طائف شامل ہیں، بھی حوثی حملوں اور فضائی خطرات سے متاثر ہوچکے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق حالیہ حملوں میں 13 شہری زخمی بھی ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کے مطابق یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرنے والی لڑائی کے نتیجے میں 112,000 سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ تقریباً 3,000 افراد سمندر کے راستے جبوتی منتقل ہوئے ہیں۔

