مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے ABC News کی جانب سے حاصل کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں کویت کے تین امریکی اڈوں اور سعودی عرب میں امریکی اثاثوں کی میزبانی کرنے والے ایک اڈے پر عمارتوں اور فوجی طیارے کو پہنچنے والے نقصان کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئربیس پر ایک تقریباً 27 کروڑ ڈالر مالیت کا E-3 Sentry نگرانی طیارہ بھی مارچ کے آخر میں ہونے والے حملے میں متاثر ہوا۔ کویت کے کیمپ عریفجان اور دیگر امریکی تنصیبات میں بھی عمارتوں اور دیگر فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچنے کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔
پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی ایک رپورٹ کے مطابق خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کی سینکڑوں عمارتیں اور دیگر ڈھانچے متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں جنگ کی لاگت تقریباً 33 ارب ڈالر جبکہ کانگریشنل بجٹ آفس کے اندازے میں یہ رقم 38 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔
ایک سینئر امریکی فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ABC News کو بتایا کہ بعض اڈوں کو پہنچنے والا نقصان اتنا شدید ہے کہ اگر انہیں دوبارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو اس عمل میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ پینٹاگون نے ABC News کی جانب سے نقصان کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
بحرین میں امریکی نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کو بھی شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ قائم مقام امریکی نیوی سیکریٹری ہنگ کاؤ نے نقصان کی شدت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحریہ اس اڈے کی بحالی سے متعلق جائزہ لے رہی ہے، جبکہ نیوی کے اعلیٰ افسر نے کہا کہ تنصیب جلد معمول کی سرگرمیوں کے لیے بحال نہیں ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں بحرین، کویت، سعودی عرب، اردن اور دیگر مقامات شامل ہیں۔ تاہم حملوں کے نقصانات اور تباہ ہونے والے فوجی اثاثوں کی مکمل تفصیلات پر امریکی حکام کی جانب سے عوامی طور پر محدود معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

