نیویارک(محسن ظہیر سے) امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ،ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے آپریشن بلیک آئوٹ کے تحت عالمی سطح پر آن لائن فراڈ نیٹ ورکس کے خلاف بڑی کارروائی کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ڈائریکٹر پٹیل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ محض لیپ ٹاپ کے پیچھے بیٹھے عام فراڈ کرنے والے افراد نہیں تھے، بلکہ منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس نے بیرونِ ملک محفوظ کمپانڈز قائم کر رکھے تھے، جہاں انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت کے ذریعے امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے والا ایک بین الاقوامی فراڈ سسٹم چلایا جا رہا تھا۔ایف بی آئی ڈائریکٹر کے مطابق آپریشن بلیک آئوٹ کے دوران 15 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے اور کرپٹو کرنسی ضبط کی گئی، جبکہ 500 سے زائد جعلی سرمایہ کاری ویب سائٹس بند کی گئیں اور سیکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔کاش پٹیل کے مطابق کارروائی کے نتیجے میں ہزاروں انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کو جبری مشقت سے آزاد کرایا گیا جبکہ 10 ہزار سے زائد امریکیوں کو فراڈ کا شکار ہونے سے پہلے خبردار کیا گیا جس کے نتیجے میں 500 ملین ڈالر سے زیادہ کے ممکنہ نقصانات سے بچائو ہوا۔کاش پٹیل کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 20 سے زائد ممالک تعاون کر رہے ہیں اور ایف بی آئی نے جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر علاقوں میں موجود بڑے اسکیم سینٹرز کے خلاف مشترکہ کارروائیاں کی ہیں۔ ان کے مطابق یہ مراکز کمبوڈیا، میانمار اور تھائی لینڈ کے سرحدی علاقوں سمیت مختلف مقامات پر قائم تھے۔ایف بی آئی کے مطابق ان فراڈ اسکیمز میں اکثر جعلی آن لائن سرمایہ کاری، رومانوی تعلقات اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے لوگوں کو اعتماد میں لے کر ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی ہتھیانے کی کوشش کی جاتی ہے۔کش پٹیل نے کہا کہ آپریشن بلیک آٹ کا مقصد صرف فراڈ کرنے والوں کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ اس پورے عالمی نیٹ ورک کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا ہے۔
ایف بی آئی
