اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی’ مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے دراندازی اور حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر افغانستان سے شدید احتجاج کیا ہے جبکہ نورستان میں مبینہ تشدد سے متعلق افغان طالبان رجیم کے الزامات مسترد کردیے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان میں افغان سفیر سردار شکیب کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افغان سفیر کو افغانستان کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر
یمارش جاری کیاگیا۔خیال رہے کہ 23 ستمبر کو افغان طالبان رجیم کی جانب سے 8 ڈرونز پاکستان کی فضائی حدود کی جانب چھوڑے گئے تھے تاہم افواج پاکستان کے ائیر ڈیفنس سسٹم نے تمام ڈرونز تباہ کرکے افغان طالبان رجیم کی بزدلانہ کوشش ناکام بنادی تھی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق 4 ڈرونز طورخم بارڈر سے ملحقہ علاقوں میں گرائے گئے جبکہ 4 ڈرونز کوہاٹ سے متصل بارڈر کے پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے تھے۔دریں اثناء وزارت اطلاعات نے افغان طالبان رجیم کے نورستان میں مبینہ تشدد کو پاکستان سے جوڑنے کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیا۔وزارت اطلاعات کی جانب سے جاری فیکٹ چیک میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغان سکیورٹی فورسز یا انٹیلیجنس اداروں کے الزامات کو مسترد کرتا ہے۔وزارت اطلاعات کے بیان میں کہا گیا کہ افغانستان کی اندرونی جھڑپوں میں ملوث ہونے کے الزامات مسترد کرتے ہیں، سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی یا تربیت دینے کے الزامات بھی بے بنیاد ہیں۔پاکستان نے داعش یا کسی دہشتگرد گروہ کو سہولت فراہم کرنے کے الزامات کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف الزامات کے ثبوت پیش نہیں کیے گئے اور نہ کسی فرد کی شناخت، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ یا فرانزک شواہد سامنے آئے۔وزارت اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا کی مبینہ ویڈیو میں چند غیرمسلح افراد دکھائے گئے۔ ویڈیو میں افراد مناسب لباس یا سازوسامان سے بھی لیس نہیں اور ویڈیو افغان طالبان رجیم کی جانب سے طے شدہ انداز میں بنائی لگتی ہے۔وزارت اطلاعات کی جانب سے کہا گیا کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی کی عالمی رپورٹس میں سامنے آئی ہیں، اقوام متحدہ کی رپورٹس میں بھی افغان دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، پاکستان سے تعلق جوڑنے کی کوششیں افغان سرزمین پر دہشتگردوں کی موجودگی نہیں چھپا سکتیں فیکٹ چیک میں کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین پر دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور سازگار ماحول حاصل ہے، طالبان رجیم کی جانب سے پاکستان پر دہشتگردی کی معاونت کا الزام باعثِ حیرت ہے۔وزارت اطلاعات کی جانب سے کہا گیا کہ افغانستان سے سرگرم دہشتگرد تنظیمیں پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں، طالبان رجیم کو بے بنیاد الزامات کے بجائے اپنی سرزمین پر دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، اس عزم کی پاسداری ضروری ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہو۔بیان میں کہا گیا کہ طالبان رجیم کے دعوے اندرونی اختلافات اور خواتین، بچوں و اقلیتوں پر جبر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ادھر افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی شناخت ظاہر کرنے کے لیے گرفتار یا ہلاک افراد کو پاکستانی لباس پہنانے کے مبینہ اقدام نے کئی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ نہ صرف گمراہ کن پروپیگنڈا بلکہ بے گناہ افراد کو پاکستان سے جوڑ کر بدنام کرنے کی ایک سنگین کوشش بھی ہے۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ماضی میں کتنے افراد کو اسی انداز میں پاکستانی ظاہر کرکے ہلاک یا پیش کیا گیا اور ان کی اصل شناخت کیا تھی؟ ایسے معاملات کی غیر جانب دارانہ اور قابلِ اعتماد تحقیقات ہونی چاہئیں، محض افغان حکام کے دعووں کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مزید حیران کن امر یہ ہے کہ جن افراد کو مبینہ طور پر پاکستانی قرار دیا جا رہا ہے، ان کا لباس اور حلیہ بظاہر اس بات پر بھی سوال اٹھاتا ہے کہ کیا انہیں باقاعدہ طور پر تیار کرکے محاذ پر بھیجا گیا تھا۔ دوسری جانب، پاکستان مسلسل افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اور پاکستان مخالف عناصر کی موجودگی کی نشاندہی کرتا رہا ہے۔ حالیہ واقعات میں بھی پاکستان نے افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کی ہیں۔ ایسے ماحول میں بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً Reuters، کے لئے شرم کا مقام ہے کہ وہ کسی ایک فریق کے دعوے کو محض نقل کرنے کی بجائے تمام متعلقہ شواہد، فریقین کا مؤقف اور دستیاب پس منظر سامنے رکھے۔ اگر پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے نام، مقامات اور روابط کے حوالے سے شواہد فراہم کیے گئے ہیں تو ان کی بھی اسی معیار اور توجہ کے ساتھ جانچ اور رپورٹنگ ہونی چاہیے۔
پاکستان احتجاج
