کوئٹہ(نیوز ایجنسیاں) بلوچستان کے ضلع زیارت میں دنیا کے دوسرے بڑے صنوبر (جونیپر)کے جنگل میں تین روزسے آگ لگی ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق 70 ایکڑ سے زائد رقبہ متاثر ہو چکا ہے۔علاقے میں مسلح شدت پسندوں اور سکیورٹی خطرات کی وجہ سے تین دن گزرنے کے باوجود آگ بجھانے کی کوئی کارروائی شروع نہیں ہو سکی۔غیرملکی خبررساںادارے کے مطابق حکام کا کہناہے کہ آگ 25 ستمبر کو ضلع زیارت کے علاقے کلی وام سرانہ کے پہاڑی سلسلے میں لگی۔ یہ علاقہ فیلہ غر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے جنگلات سرکاری ملکیت ہیں۔ ڈپٹی کمشنر زیارت عبدالقدوس اچکزئی نے پہلے دن بتایا کہ تقریبا دو ایکڑ رقبہ متاثر ہوا ہے۔ بعد میں محکمہ جنگلات نے سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے اندازہ لگایا کہ متاثرہ رقبہ 70 ایکڑ سے زیادہ ہے۔ڈپٹی کمشنر نے محکمہ داخلہ اور دیگر حکام کو ایک مراسلہ بھی لکھا جس کے مطابق محکمہ جنگلات کا عملہ فورا موقع پر بھیجا گیا تھا لیکن علاقے میں 30 سے 40 مسلح دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات ملیں جس پر انتظامیہ نے عملے کی جانوں کے تحفظ کے لیے اسے واپس بلا لیا۔ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر بلوچستان حکومت نے پاک فوج سے مدد مانگی ہے۔ حکومت نے فوج سے ہیلی کاپٹر یا فضائی معاونت فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق فضائی کارروائی بھی تاحال شروع نہیں ہو سکی۔رپورٹ کے مطابق محکمہ جنگلات لورالائی ڈویژن کے کنزرویٹر محمد امین مینگل نے بتایا کہ آگ کے دو الگ واقعات پیش آئے ہیں۔ پہلی آگ تین روز پہلے لگی۔ وہ دوسرے دن خود بجھ گئی دوسری آگ اتوار کو اسی جگہ کے قریب لگی۔ ان کے مطابق یہ نسبتا زیادہ شدید ہے۔امین مینگل کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات میں متاثرہ رقبے کا درست اندازہ اب تک نہیں لگایا جا سکا۔ ان کے مطابق 27 ستمبر کی سیٹلائٹ تصاویر میں 70 ایکڑ سے زیادہ رقبہ متاثر دکھایا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان جنگلات میں ہزاروں سال پرانے درخت ہیں۔ ان کے اندازے کے مطابق سینکڑوں درخت جل چکے ہیں۔ تاہم درست تعداد موقع کا جائزہ لینے کے بعد ہی معلوم ہو سکے گی۔ امین مینگل نے بتایا کہ محکمہ جنگلات کے پاس ہیلی کاپٹر یا ڈرون جیسی کوئی جدید سہولت نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عملہ مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر پیدل دشوار گزار پہاڑوں تک پہنچتا ہے۔ اوزار اور پانی خود اٹھا کر یا گدھوں اور خچروں پر لاد کر اوپر لے جایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ جنگلات نے حالیہ عرصے میں ڈرون حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس کے لیے این او سی نہیں مل سکا۔ان کا کہناتھا کہ زیارت اور قریبی اضلاع سے محکمہ جنگلات کے اہلکار اور مقامی رضاکار بڑی تعداد میں آگ بجھانے کو تیار ہیں لیکن سکیورٹی خطرات کے باعث ضلعی انتظامیہ نے انہیں متاثرہ علاقے میں جانے سے روک رکھا ہے۔امین مینگل نے بتایا کہ پہلے دن بھی ٹیمیں روانہ ہوئی تھیں۔ انہیں یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ سکیورٹی کلیئرنس نہیں ملی۔ ضلعی انتظامیہ، ایف سی، پولیس اور پی ڈی ایم اے سے رابطہ جاری ہے۔ کلیئرنس ملتے ہی ٹیمیں پولیس اور ایف سی کی سکیورٹی میں روانہ ہوں گی۔
جنگل آتشزدگی
