Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • محکمہ اوقاف کی ناقص کارکردگی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ایسی کتاب کی رونمائی کرا دی جو دستیاب ہی نہیں
    • پنجاب ڈینٹل ادویات و ڈینٹل میٹریل اسٹاک میں خوردبرد سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف
    • ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور کا مؤقف دینے سے گریز
    • مجھے تو کوئی علم ہی نہیں ‘ سیکرٹری سے پوچھ کر بتائوں گا: ترجمان اوقاف
    • حکومت اور اپوزیشن کو کھلے دل کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھنا چاہیے، جے یو آئی
    • ریلوے کی 13 ایکسپریس مسافر ٹرینیں آئوٹ سورس کرنے کا فیصلہ
    • بلوچستان کے 10 نوجوانوں کو ہر سال دنیا کی ممتاز جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپس دینے کا اعلان
    • ترکیہ میں 35لاکھ بچے رسمی تعلیم سے محروم
    • مقبوضہ کشمیر: سرینگر میںپانی کی شدید قلت کے خلاف خواتین کا دھرنا، سڑک بند
    • انڈیا بلاک کا 7 اکتوبر کو جموں میں ‘جمہوریت بچاؤ’ ریلی کا اعلان
    • کپتان پر حملہ کرنیوالا شریک پائلٹ برطانیہ میں زیرتعلیم رہا
    • شیری رحمان کا رات بھر حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کی کوریج کرنے والے پارلیمانی رپورٹرز،کیمرہ مینز کو خراج تحسین
    • اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار کے اعزاز میں الوداعی تقریب
    • چوری ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں شہری نقدی زیورات قیمتی اشیاء سے محروم
    • سکھر حیدرآباد موٹروے ایم 6 کی تعمیر اگلے ماہ شروع ہوگی: عبدالعلیم خان
    • عمران خان سے ملاقات کے بغیر لانگ مارچ کال آف کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا:حلیم عادل شیخ
    • وزیراعظم آزاد کشمیر کا سابق سٹاف آفیسر سردار شفاعت خان کی وفات پر اظہار افسوس
    • آل پاکستان انجمن تاجران کی سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت
    • بھارت کی اپنی تاریخی ہزیمت چھپانے کی بھونڈی کوشش
    • سندھ ٹیکنیکل بورڈ نے ڈی آئی ٹی ڈپلومہ کی رجسٹریشن کا شیڈول جاری کر دیا، 26 اکتوبر آخری تاریخ مقرر
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    کوئی نا جائز ڈیمانڈ نہیں کی سہیل آفریدی 7 نکاتی مسودہ سامنے لے آئے لانگ مارچ کرک پہنچ گیا

    By Khabrain Newsاکتوبر 5, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اپشاور، اسلام آباد( ویب ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا 7 نکاتی ڈرافٹ منظر عام پر لے آئے، انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ان کی  قیادت میں لانگ مارچ کرک پہنچ گیا جبکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا سرکاری ہیلی کاپٹر حادثے سے بال بال بچ گیاجبکہ لانگ مارچ میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے شامل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ادھر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر حکومت سے مذاکرات کی تیسری نشست کیلئے متحرک ہوگئے جبکہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے حکومت نے مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا کرکے مایوس کیا، اب حالات خراب ہوئے تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سات نکاتی ڈرافٹ منظر عام پر لے آئے۔سوشل میڈیا پر ڈرافٹ شیئر کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے لکھا کہ مذاکراتی کمیٹی کو میرا بھیجا گیا ڈرافٹ یہ ہے جسے میں اپنی قوم کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ پوری قوم کو یہ علم ہونا چاہئے کہ ان میں سے ایک ڈیمانڈ بھی غیر آئینی و قانونی نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے درجے کا شہری سمجھا جا رہا ہے۔ ہمارے ساتھ ریاست پر قابض لوگ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے ڈیمانڈز تھے، ہیں اور رہیں گے۔ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، قومی یکجہتی، امن و امان کے قیام اور تمام سیاسی و قومی معاملات کو باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے کیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم پاکستان اور دونوں ایوانوں میں قائدینِ حزبِ اختلاف کے درمیان باقاعدہ ملاقات کا اہتمام کیا جائے گا جس میں ملک کو درپیش تمام اہم سیاسی، قومی، آئینی، قانونی اور جمہوری معاملات، بالخصوص زیرِ التوا امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ فریقین اس امر کے پابند ہوں گے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے مذکورہ امور کے حل کے لیے دو ماہ کے اندر موثر اور قابلِ عمل پیش رفت یقینی بنائی جائے۔ وزیرِ اعظم پاکستان حکومتی اتحاد، پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل ایک مشترکہ سیاسی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دیں گے، یہ کمیٹی اپوزیشن کے ساتھ قومی و سیاسی معاملات، باہمی اختلافات اور دیگر اہم امور پر مسلسل مذاکرات کرے گی اور باہمی اتفاقِ رائے سے قابلِ عمل حل تلاش کرے گی۔ جمہوریت، سیاست، عدالت اور صحافت کی مکمل آزادی ہوگی۔ کمیٹی اپنے قیام کے بعد ایک ماہ کے اندر مذاکرات اور حل کے حوالے سے قابلِ ذکر پیش رفت یقینی بنائے گی اور اپنی سفارشات متعلقہ قیادت کے سامنے پیش کرے گی۔ جیل مینول، آئینِ پاکستان اور مروجہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو حاصل تمام قانونی، انسانی اور طبی حقوق بلاامتیاز فراہم کیے جائیں گے۔ ان کے علاج و معالجے کے سلسلے میں جہاں قانوناً قابلِ اطلاق ہو، ان کے ذاتی/نامزد ڈاکٹروں کی طبی رائے، ہدایات اور مشوروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے ضروری طبی سہولیات اور علاج معالجے کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ جیل مینول اور متعلقہ قوانین کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے اہلِ خانہ، نامزد وکلا اور مجاز/نامزد رفقا سے ملاقات کا حق فراہم کیا جائے گا۔ ملاقاتوں کا انعقاد قانون اور جیل قواعد و ضوابط کے مطابق ہوگا تاہم ملاقات کی سہولت کو کسی بھی فریق کی جانب سے ایسے سیاسی یا دیگر مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا جو قانوناً ممنوع ہوں۔ عمران خان، بشریٰ بی بی، خواتین، معمر اور بیمار قیدیوں سمیت تمام زیرِ حراست افراد کی جانب سے سزاؤں کے خلاف دائر درخواستوں اور دیگر قانونی درخواستوں پر آئین و قانون کے مطابق دس دن کے اندر غور کا عمل شروع/مکمل کیا جائے گا، جہاں قانوناً ایسا ممکن ہو۔ تمام مقدمات کا فیصلہ متعلقہ عدالتیں اور قانونی فورمز آئین، قانون، شفاف عدالتی طریق کار اور انصاف کے اصولوں کے مطابق، بلاجواز تاخیر کے بغیر، کریں گے۔ خواتین جو سیاسی قید کاٹ رہی ہیں جن میں بزرگ یاسمین راشد اور بشریٰ بی بی سرفہرست ہے ان کو انسانی ہمدردی دکھاتے ہوئے جلد رہا کیا جائے۔ خیبر پختونخوا میں جاری دہشت گردی کے خاتمے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور مستقل و پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان موثر، مسلسل اور بامعنی مشاورت کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ پالیسیوں اور اقدامات کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق ان میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندگان 72 گھنٹوں کے اندر باقاعدہ اجلاس منعقد کرکے باہمی مشاورت سے امن و امان کے قیام کے لیے ایک واضح، جامع اور قابلِ عمل حکمتِ عملی مرتب کریں گے۔ اس حکمتِ عملی پر آئین و قانون کے دائر کار میں رہتے ہوئے عمل درآمد وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہوگی۔ وفاقی حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا یقین دہانیوں اور طے شدہ اقدامات پر موثر عمل درآمد کی تحریری یقین دہانی کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف موجودہ لانگ مارچ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی تاہم اگر وفاقی حکومت طے شدہ یقین دہانیوں، مذاکراتی عمل یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی کرے یا مذاکراتی عمل کو بلاجواز تعطل کا شکار کرے تو پاکستان تحریکِ انصاف آئین و قانون کے مطابق اپنے پرامن، جمہوری اور قانونی احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔دریں اثناء خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے لکی مروت کے علاقے گنڈی چوک سے لانگ مارچ کے پہلے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کو نہیں مانتے، خیبرپختونخوا میں حکومت عمران خان کی ہے۔وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے گنڈی چوک لکی مروت میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک سیاسی قوت اور سیاسی جماعت ہیں، کل جو مذاکراتی کمیٹی اسلام آبادگئی وہ سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کے لیے گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ ایک مائنڈ سیٹ جو بند کمروں میں فیصلے کرتاہے، کل وہ ایک اور فیصلہ آپ پر مسلط کرنے جا رہا تھا، یہاں پر عمران خان کی حکومت ہے اور یہاں عمران خان کا وژن اور پالیسی ہی چلے گی، ہم کسی ایسی پالیسی کو نہیں مانتے جس میں پشتونوں کا نقصان ہو، خیبرپختونخوا میں راج صرف عمران خان کا ہوگا، ہم جی جناب والے نہیں ہیں ،نہ گورنر راج اور نہ ایمرجنسی مانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں کوئی آپریشن نہیں ہوگا، ہم پہلے بھی باغی تھے اور آج بھی باغی ہیں، وفاقی حکومت نے 22سال سے ہمارے صوبے کو لیبارٹری بنارکھا ہے ، ہم پر زبردستی آپریشن لاگو کیا گیا، ان لوگوں نے دوبارہ یہاں دہشت گردی نافذ کی ہے ،ہم یہ آگ بجھائیں گے۔سہیل آفریدی نے شرکا سے کہا کہ 79سال سے مسلط ایک مائنڈ سیٹ کل آپ پر آپریشنز کی ایک اور پالیسی مسلط کر رہا تھا، حکومت خیبرپختونخوا وفاقی حکومت کو کھلی پالیسی دیتی ہے، اس پر عمل درآمد سے 100دنوں میں امن آسکتا ہے، اس کے لیے نیت کا ہونا چاہیے مگر ان کی نیت امن نہیں ہے، ان کی نیت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کو ختم کرنا ہے مگر ان کا باپ بھی یہ نہیں کر سکتا۔ادھر وفاقی حکومت سے مذاکرات کی تیسری نشست کیلئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان متحرک ہو گئے۔پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی مذاکرات کا تسلسل جاری رکھنے کے لئے متحرک ہیں، مذاکرات کی تیسری نشست کے لئے بیرسٹر گوہر کے رابطے جاری ہیں۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے کئی سینئر رہنما لانگ مارچ سے قبل مذاکرات کی کامیابی کے خواہاں ہیں۔دریں اثناء خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ حکومت کی نیت دہشت گردی ختم کرنے کی نہیں بلکہ صرف پی ٹی آئی کو کچلنا ہے،صرف بندوق اور ڈنڈے کی پالیسی نہیں چلے گی۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذاکراتی کمیٹی سیاسی مسائل کے حل کے لیے بنائی گئی تھی اور اسے پورا مینڈیٹ حاصل تھا کہ وہ جو بھی فیصلہ کرتی، صوبائی حکومت اور پارٹی اس کا پورا احترام کرتی لیکن خیبرپختونخوا حکومت کا مینڈیٹ وزیراعلیٰ کے ساتھ ہے اور کے پی حکومت کی پالیسی عمران خان کے نظریئے سے ذرا برابر بھی ہٹ نہیں سکتی۔شفیع جان نے وفاقی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ہمارے معصوم پختونوں کا خون اتنا سستا نہیں کہ آپ کی غلط پالیسیوں کے تحت ہم مزید 80ہزار جانوں کا نذرانہ پیش کرنے دیں، خیبر پختونخوا پر دہشت گردی کو زبردستی مسلط کیا گیا ہے اور جو لوگ خود آگ لگانے والے ہوں وہ کبھی آگ بجھانے کا کام نہیں کر سکتے، اب پالیسی میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف بندوق اور ڈنڈے کی پالیسی اب مزید نہیں چلے گی، پچھلے 22 سال سے نافذ ایک ہی پالیسی نے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے عوام سے ان کا سکون، جان و مال اور روزگار چھین لیا ہے، اور اب مزید ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا، اسلئے اب بند کمروں میں بیٹھ کر چند عقلِ کل ہمارے مستقبل کے فیصلے نہیں کر سکتے۔قبل ازیںپی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے حکومت نے مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا کرکے مایوس کیا، اب حالات خراب ہوئے تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔اپنے ایک بیان میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ ملک کو دلدل سے نکالنے کے لیے حکومت کو لچک دکھانی چاہیے تھی، لیکن حکومت نے ڈیڈ لاک پیدا کر کے مایوس کیا، حکومت کے پاس ملک کو دہشت گردی اور معاشی مشکلات سے نکالنے کیلئے کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ضد اور انا سے ملک نہیں چلتے، حکمران ہوش کے ناخن لیں، خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج سے حالات مزید خراب ہوں گے، ملک قرضوں میں ڈوبا ہے، عوام پریشان ہیں لیکن حکمرانوں کو پرواہ ہی نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر مذاکرات ناکام بنائے، اپوزیشن نے مذاکرات کرکے اچھا کیا، حکومت ایکسپوز ہوگئی، اب حالات خراب ہوئے تو ذمہ دار حکومت ہوگی۔شوکت یوسفزئی نے کہا پہلے کہتے تھے پی ٹی آئی مذاکرات نہیں کرتی، جب ہم مذاکرات کی طرف آئے تو حکومت بھاگ رہی ہے، تحریک انصاف کے مطالبات آئینی اور قانونی ہیں، حکومت کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دینی چاہیے، اور دہشت گردی ختم کرنے کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا لانگ مارچ شروع ہورہا ہے ، اپوزیشن کے مطالبات تسلیم ہونے تک لانگ مارچ جاری رہے گا۔ادھر پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا نے حکومتی ٹیم اور پی ٹی آئی-ٹی ٹی اے پی ٹیم کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ بتا دی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر سلمان اکرم راجا نے بتایا کہ دیگر تمام ایشوز اور شور کو ایک طرف رکھتے ہوئے مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ انسداد دہشتگردی اقدامات پر دونوں فریقین کے درمیان اختلاف تھا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی-ٹی ٹی اے پی ٹیم اپنے اصولی موقف پر ڈٹی رہی کہ خیبر پختونخوا میں انسداد دہشتگردی اقدامات وفاقی اور صوبائی حکومت کے باہمی اتفاق رائے سے کیے جائیں گے، جبکہ اس معاملے میں کے پی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں سے بھی مشاورت اور رضامندی لی جائے گی۔ سلمان اکرم راجا کے مطابق حکومتی ٹیم اس مقف سے متفق نہیں تھی اور اس کا اصرار تھا کہ وفاق کی جانب سے یکطرفہ طور پر شروع کیے گئے تمام اقدامات کی ذمہ داری صوبائی حکومت کو قبول کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی-ٹی ٹی اے پی ٹیم نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے اور اس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں، تاہم معصوم جانوں کے ضیاع اور مقامی آبادی کی اندرونی نقل مکانی کی صورت میں نام نہاد کولیٹرل ڈیمیج کے خلاف ہیں۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پالیسیوں اور اقدامات کو مقامی آبادی کی حمایت حاصل ہونی چاہیے اور یہ اقدامات زمینی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کے پی اسمبلی میں صوبے کے تمام سیاسی و قبائلی عمائدین، بشمول ضم شدہ اضلاع، کے جرگے کی دانش کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے، تاہم یہ موقف بھی وفاقی حکومت کے لیے قابل قبول نہیں تھے۔قبل ازیںوزیراعلیٰ سہیل آفریدی لانگ مارچ کا آغاز کرنے کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر میں لکی مروت پہنچے،خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے آغاز کے موقع پر وزیراعلی سہیل آفریدی کا سرکاری ہیلی کاپٹر لینڈنگ کے دوران حادثے سے بال بال بچ گیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی لانگ مارچ شروع کرنے کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کے ذریعے لکی مروت پہنچے جہاں ہیلی کاپٹر کی لینڈنگ کے موقع پر ایک کارکن کا پارٹی پرچم ہیلی کاپٹر کے پروں سے ٹکرا گیا۔سہیل افریدی کا ہیلی کاپٹر جیسے ہی لینڈ کرگیا تو پی ٹی آئی کے کارکنان ان پر ٹوٹ پڑے اور ہیلی کاپٹر کی طرف بڑھے، اسی دوران ایک کارکن کا پارٹی پرچم ہیلی کاپٹر کے پروں میں پھنس گیا تاہم خوش قسمتی سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے نکلے قافلوں کی آڑ میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے شامل ہونے کے خدشات سر اٹھانے لگے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فتنہ الخوارج کی چند تشکیلوں کے دہشت گرد مکین، جنوبی وزیرستان، مالا کنڈ کے علاقوں سے تحریک انصاف کے قافلوں میں بھیس بدل کر گھس چکے ہیں، فتنہ الخوارج کے دہشت گرد مختلف جگہوں پر اکھٹے ہوئے ہجوم کی آڑ میں دہشت گرد کاروائیاں کر سکتے ہیں۔ذرائع نے کہا کہ زیادہ ہجوم والی جگہوں اور ڈیوٹی پر مامور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار دہشت گردوں کا نشانہ ہو سکتے ہیں، انتشار پھیلانے کے لیے سیاسی اجتماعات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
    سہیل آفریدی

     

     

     

     

    Khabrain News

      Keep Reading

      محکمہ اوقاف کی ناقص کارکردگی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ایسی کتاب کی رونمائی کرا دی جو دستیاب ہی نہیں

      پنجاب ڈینٹل ادویات و ڈینٹل میٹریل اسٹاک میں خوردبرد سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف

      ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور کا مؤقف دینے سے گریز

      تازہ ترین

      لاہور بینک ڈکیتی، PUBG کھیلنے والے ملزم نے آسان پارکنگ کی وجہ سے بینک منتخب کیا

      سرحدی فائرنگ میں 2 شہری جاں بحق پاکستان نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کرلیا

      بولان پکنک پر جانے والے کوئٹہ کے ہزارہ نوجوانوں پر فائرنگ، ایک جاں بحق

      اسپین میں شدید بارشوں کا قہر، متعدد گاڑیاں سیلابی پانی میں بہہ گئیں

      بشریٰ انصاری کی حمایت نہ کرنے کا معاملہ زارا نور عباس کا مؤقف سامنے آگیا

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.