لاہور(کورٹ رپورٹر)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے توہین عدالت کی درخواست پر ڈی جی ایف
آئی اے سے پنجاب بھر میں زیر التوا درخواستوں کی رپورٹ 22 اکتوبر تک طلب کرلی، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ جی ڈی صاحب اگر پنجاب میں ایف آئی اے کام کرے تو لوگوں کو عدالتوں کے پاس کیوں آنا پڑے؟ اگر عدالتیں بھی نہیں سنیں گی تو انصاب کون دے گا؟ عدالت کے استفسار پر ڈی جی ایف آئی آے ڈاکٹر عثمان انور نے موقف اپنایا کہ پیکا ایکٹ قانون پاس ہونے کے بعد ایف آئی اے سے این سی سی آئی اے میں تبدیل ہوا، درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ ہم 4,5 مرتبہ ان کے پاس گئے ہیں ہماری شنوائی نہیں ہو رہی، ڈی جی ایف آئی اے نے آگاہ کیا کہ میرا آفیسر ان کے پاس گیا، ان کا کیس تفصیلی سنا ہے اور ان سے ملاقات بھی کی ہے ، ڈی جی ایف آئی اے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انکوائری کی میں پتہ چلا ایف آئی نے اغوا نہیں کیا وہ پولیس کے پاس ہے ، ایف آئی اے میں سورسز کی کمی کے باعث انکوائریاں تاخیر کا شکار ہیں ، ایف آئی اے میں 70نئے آفیسر بھرتی کر رہے ہیں ، نئے آفیسرز کے انے سے کیسز میں کمی اے گی ،ایف آئی اے اور این سی سی آئی اے دونوں ونگز کے پاس کیس ٹو کیس ویری فائی ہو گا ۔
