واشنگٹن، تہران ( نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کیخلاف جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی ۔ادھرامریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی فوج کو ایران پر ممکنہ حملوں کے لئے تیار رہنے کا حکم دیدیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران کے شمال مشرق میں واقع خفیہ جوہری تنصیب میں اسرائیلی حملے کے کئی ماہ بعد دوبارہ سرگرمیاں بحال ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔جبکہ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، خلیج فارس اور خلیج عمان میں بحری ٹریفک کی مکمل نگرانی ایرانی بحریہ کے پاس ہے۔روسی صدر پیوٹن نے امریکا سے کشیدگی کم کرنے کیلئے ایران کو معاونت کی پیشکش کی ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ بہت جلد ختم ہوجائے گی کیونکہ اس وقت پورا ایران تباہ ہوچکا ہے اور تیل کی قیمتیں گرنے والی ہیں۔ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران کی فوج بھی اب تباہ ہوچکی ہے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آجائیں گی۔ ٹیکساس میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکا جلد ہی ایران سے نکل جائے گا اور تیل کی قیمتیں چٹان کی طرح گرنے والی ہیں صدر ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ادھرایران کے دارالحکومت تہران کے شمال مشرق میں واقع خفیہ جوہری تنصیب میں اسرائیلی حملے کے کئی ماہ بعد دوبارہ سرگرمیاں بحال ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی نے نئی سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر بتایا کہ من زیدائی نامی جوہری تنصیب میں گاڑیوں کی آمد و رفت اور تعمیراتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔دریں اثناء ایرانی پاسداران انقلاب فورس کے سیاسی نائب کمانڈر کرنل علی محمدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور بحری جہازوں کی آمد و رفت سے متعلق دعوئوں کو مسترد کر تے ہوئے کہاہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل ہو رہی ہے تو بین الاقوامی منڈیوں میں اس کا اثر کیوں نہیں ہے؟۔ حقیقت یہ ہے کہ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان میں بحری ٹریفک کی مکمل نگرانی ایرانی بحریہ کے پاس ہے۔ دوسری جانب امریکی فوج کو امریکہ میں وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر ممکنہ حملوں کیلئے تیار رہنے کا حکم دے دیا گیا ۔ امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے سینٹرل کمانڈ کو ممکنہ کارروائی کیلئے تیاری مکمل کرنے کی ہدایت کردی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ حملوں کے وقت پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ممکنہ حملوں میں ایران کے توانائی کے شعبے اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، جبکہ جوہری تنصیبات بھی ممکنہ اہداف میں شامل ہوسکتی ہیں۔علاوہ ازیںروس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکا سے کشیدگی کم کرنے کیلئے ایران کو معاونت کی پیش کش کر دی۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا روسی ہم منصب پیوٹن سے ٹیلیفون پر رابطہ ہوا جس میں روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ جامع اسٹریٹیجک شراکت داری معاہدے کے تحت تعاون جاری رہے گا۔صدر پیوٹن نے دشمن کی جارحیت کے خلاف ایرانی قوم کی ثابت قدمی کو تاریخی لمحہ قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا بھر میں لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ثالث ممالک کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ روس بھی معاملے کا سفارتی حل چاہتا ہے اور اس کیلئے کردار اور معاونت کیلئے تیارہے۔
ٹرمپ
