ریاض، صنعا، واشنگٹن( نیوز ایجنسیاں) یمنی فوج نے 1860 جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے
جبکہ حوثی گروپ کا دعویٰ ہے کہ ان کے حملوں میں اتحادی فوج کے متعدد اہلکار مارے گئے، ادھر حوثیوں کے سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ عرب ، جی سی سی رہنمائوں نے سعودی ایئرپورٹس پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور شہریوں کی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے ، اس کے علاوہ شام نے یمن میں حوثیوں کیخلاف اپنی فوج اتارنے پرغور شروع کردیا ہے۔ عالمی میڈیارپورٹس کے مطابق حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق سعودی عرب کے زیرِ استعمال ترک ساختہ بیرقدار آقنچی جاسوسی ڈرون تعز میں ہوسٹائل مشن پر مامور تھا اور اسے مناسب ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کیا گیا۔ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ حوثی فورسز نے آبنائے باب المندب کے قریب سعودی حمایت یافتہ فورسز اور ان کے اجتماعات کو بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حوثیوں نے سعودی عرب کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور میزائل حملہ کیا ہے، اس ہفتے کے دوران ریاض کے ہوائی اڈے پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا یہ تیسرا موقع ہے۔ادھر حوثی ملیشیا نے یمن کے صوبے لحج اور باب المندب میں سعودی اتحادی افواج پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔یمن کی حوثی ملیشیا کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ سعودی اتحادی افواج کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے، لحج میں حملے میں متعدد فوجی مارے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں سعودی اتحادی فوج کے اسلحہ گودام بھی تباہ کر دئیے۔ سعودی اتحادی افواج کی جانب سے اس دعوے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے کہاہے کہ اس نے یمن کے چار صوبوں میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے 82فوجی اہداف تباہ کردئیے ہیں۔ یہ کارروائی سعودی عرب کے شہری ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد کی گئی۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ سعودی عرب میں شہریوں، شہری تنصیبات اور ریاض اور ابہا ایئرپورٹس کو نشانہ بنائے جانے والے دہشت گرد حوثی ملیشیا کے وحشیانہ حملے بغیر سزا کے نہیں رہیں گے۔ سعودی خبررساں ادارے ایس پی اے کے مطابق ترجمان نے کہا کہ اتحادی فورسز نے ایک جامع کارروائی شروع کی جس میں صعدہ، الجوف اور مارب میں دہشت گرد حوثی ملیشیا کے 82جائز فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔ان اہداف میں بیلسٹک میزائل کی سائٹس خصوصا ًصعدہ کے پہاڑی علاقوں میں قائم بیلسٹک میزائل کی سٹوریج، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹرز، کمیونی کیشن سسٹم، میزائل اور اسلحے کے ڈپو اور دہشت گرد حوثی ملیشیا کے اجتماع کے مقامات شامل ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق اتحادی فورسز نے یہ کارروائیاں ریاض اور ابہا ایئرپورٹس پر حملوں کی بعد کی ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ صرف صعدہ میں پہاڑوں کے اندر قائم بیلسٹک میزائل ذخیرہ کرنے والی 11 تنصیبات کو تباہ کیا گیا، جبکہ دیگر اہداف میں کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، مواصلاتی نظام، میزائل و ہتھیاروں کے گودام اور حوثی جنگجوں کے اجتماع کے مقامات شامل تھے۔ترکی المالکی نے کہا کہ یہ فضائی حملے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثیوں کے حملوں کے جواب میں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کو بے سزا نہیں چھوڑا جائے گا۔سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کے ایئرپورٹس پر حملوں میں 3 افراد جاںبحق اور 36 زخمی ہوئے۔ حوثیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ہوائی اڈوں کو ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔ اس سے قبل یمن کی سرکاری فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حوثی باغیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے دوران 1ہزار 860جنگجوؤں کو ہلاک یا غیر مسلح کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے ٹھکانوں پر 2 ہزار 103 کارروائیاں کی گئی ہیں۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ حوثیوں کے خلاف کارروائیاں فجرِ یمن آپریشن کے تحت مختلف محاذوں پر کی گئی ہیں۔دریں اثناامریکی محکمہ خارجہ کے قونصلر امور نے سعودی عرب میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور حوثی ملیشیا کی جانب سے ایئرپورٹس اور فضائی حدود کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کے پیش نظر امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔ادھر عرب ممالک اور علاقائی تنظیموں نے سعودی عرب کے دو ہوائی اڈوں پر حوثیوں کے حملوں کی شدید مذمت کی ہے جن میں تین افراد جاںبحق اور متعدد زخمی ہوئے۔عرب نیوز کے مطابق علاقائی تنظیموں نے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور شہریوں کی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا۔دوسری جانب شام نے حوثیوں کے خلاف جنگ لڑنے کیلئے یمن میں فوج بھیجنے پر غور شروع کر دیا ہے۔یہ بات امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے 3 امریکی حکام کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہی ہے ۔امریکی حکام نے بتایا ہے کہ سعودی عرب اور شام یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جوابی کارروائی میں شامل ہونے کے لیے شامی فوجی دستے بھیجنے پر بات چیت کر رہے ہیں۔شامی صدر احمد الشرع اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
حوثی
بریکنگ نیوز
- سناف لیول معاہدہ طے پاکستان کو 121 ارب ڈالر ملیں گے آئی ایم ایف کا پٹرول ریلیف سکیم فوری ختم کرنے پر زور
- راولپنڈی:فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی ملاقات کر رہے ہیں
- روس یوکرین پر میزائل ڈرون حملے بچوں سمیت 28 افراد ہلاک
- پاک بحرین تعلقات مشترکہ اقدار باہمی احترام پر منبی فیلڈ ماشل
- ایران یورینیم افزودگی کا عمل ترک نہیں کرے گا، سربراہ ایرانی جوہری توانائی تنظیم
- حوثیوں کیخلاف اپنی فوج کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر نہیں بھیجیں گے؛ ترکیہ
- کیف:روس کے حملے کے بعد زخمیوں کو ہسپتال لے جایا جارہا ہے
- لاہور:وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف سے عالمی ادارہ محنت کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ایف ہونگبوملاقات کر رہے ہیں
- کم از کم اجرت میں اضافہ لیبر قوانین پر سختی سے عمل کرایا جا رہا مریم نواز
- فضل الرحمن ثالث حکومت آمادہ پی ٹی آئی نے بھی سر جوڑ لیے مثبت اشارے
- وزیراعظم بحرین تجارت سرمایہ کاری میں تعاون مزید بڑھانے کا عزم
- 1860جنگجو ہلاک کر دیے یمنی فوج حملوں میں متعدد اتحادی فوجی مارے گئے حوثی ترجمان
- پٹرول مزید2.31 روپے ڈیزل 88پیسے مہنگا
- روسی صدر ولادی میر پیوٹن دو روزہدورے پر ترکمانستان پہنچ گئے
- مکہ معاہدہ: ترکیہ کا سعودی عرب کی مدد کیلئے دفاعی تعاون کا جائزہ
- گولی چلائیں سینے پیش کریں گےسہیل آفریدی
- صومالیہ میں شہید ہونیوالے پاکستانیوں کے لواحقین میں فی کس 2 کروڑ 60 لاکھ روپے کے چیک تقسیم
- وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری کی ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کرانے کی درخواست پر سماعت 2 ہفتوں تک ملتوی
- خواجہ آصف سے ایتھوپیا، روانڈا اور تاجکستان کے سفارتی نمائندوں کی ملاقاتیں
- بلاول بھٹو سے پی پی رہنمائوں اور ارکان اسمبلی کی ملاقاتیں، مختلف امور پر بریفنگ
