اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت نے مولانا فضل الرحمن کی ثالثی پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے انہیں وقت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی بھی اہم بیٹھک ہوئی جس میں مثبت اشارے سامنے آئے۔ قبل ازیں جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ثالثی کی پیش کش کرتے ہوئے 5 شرائط سامنے رکھی تھیں ۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ و دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف سے مولانا فضل الرحمن نے رابطہ کیا ‘ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم کو پیشکش کی کہ اگر میں ثالثی کروں تو آپ کو منظور ہے جس پر وزیراعظم اور کابینہ نے کہا کہ ہمیں آپ کی ثالثی پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اپوزیشن سے مذاکرات کے سلسلے میں مولانا فضل الرحمن کو ثالثی کی کوششوں کو وقت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مذکورہ پیشرفت سے قبل حکومتی کمیٹی نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی۔ وزیراعظم کے زیرصدارت اجلاس میں وفاقی ورزاء اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا’ ذرائع کے مطابق اہم بیٹھک کے دوران وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ کی جانب سے مذاکراتی عمل پر بریفنگ دی گئی۔شرکاء نے خیبر پختونخوا کے حوالے سے تمام آئینی و قانونی امور پر بھی غور کیا گیا۔ دریں اثنائمذاکراتی عمل میں ڈیڈلاک کے پیش نظر پی ٹی آئی اور حکومت سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان کو ثالث بنانے پر تیار ہیں تاہم مولانا فضل الرحمان نے ثالث بننے کیلئے مشروط آمادگی ظاہر کی ہے ۔ میڈیارپورٹ کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کی مولانا فضل الرحمان سے کردار ادا کرنے کی درخواست پر سربراہ جے یو آئی نے ثالث بننے کیلئے فریقین کے سامنے 5شرائط رکھ دیں۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے فریقین کو جواب دیا ہے کہ پہلے جائزہ لوں گا دونوں مسئلے کے حل میں کتنے سنجیدہ ہیں، فریقین کے جواب کے جائزے کے بعد مولانا فضل الرحمان ثالثی کردارادا کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کے کردار کیلئے فریقین کو اپنی شرائط سے بھی آگاہ کردیا، کہا فریقین نے بنیادی امور پر اتفاق کیا تو مولانا فضل الرحمان اپنا کردار ادا کریں گے، سنجیدہ اور مخلصانہ کوشش سے اب بھی راستہ نکالا جاسکتا ہے۔فضل الرحمان نے فریقین کو مشورہ دیا ہے کہ ایک دوسرے کے موقف کو تسلیم کریں گے تو درمیانی راستہ نکل آئے گا، ڈیڈلاک برقراررہا اور لانگ مارچ کیخلاف طاقت استعمال ہوئی توکچھ نہیں بچے گا ۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے گرین سگنل کے بعد وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات کا بھی امکان ہے۔دریں اثناء جمعیت علمائے اسلام (ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ملکی سیاست میں ایک بار پھر متحرک ہو گئے۔حکومتی وفد سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمن نے پاکستان تحریکِ انصاف سے رابطہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے حکومتی وفد سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی قیادت سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور حکومتی پیشکش سے آگاہ کیا جس کے بعد پی ٹی آئی نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی تمام قیادت زوم پر جاری ہنگامی اجلاس میں شریک ہے۔واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کو گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کے بجائے معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے کا مشورہ دیا تھا جس پر حکومت نے انہیں مذاکرات میں کردار ادا کرنے کے لیے کہا تھا۔ذرائع کے مطابق گزشتہ روز حکومتی وفد میں شامل رانا ثنا اللہ، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور طارق فضل چوہدری نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی تھی۔
فضل الرحمن
