لاہور (جنرل رپورٹر)ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ
ای سی)کی جانب سے ٹینیور ٹریک سسٹم (TTS) کے تحت یونیورسٹی اساتذہ کی تنخواہوں میں 100 فیصد سے زائد اضافے کے اعلان کے بعد سرکاری جامعات مالی دبا کا شکار ہو گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق ایچ ای سی نے تنخواہوں میں اضافے کا اعلان تو کر دیا، تاہم اس مقصد کے لیے جامعات کو کوئی اضافی بجٹ فراہم نہیں کیا۔ کمیشن نے جامعات کو ہدایت کی ہے کہ وہ بڑھائی گئی تنخواہیں اپنے وسائل سے ادا کریں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی کے اس فیصلے سے سرکاری جامعات میں تشویش پائی جا رہی ہے کیونکہ بیشتر جامعات پہلے ہی مالی خسارے کا سامنا کر رہی ہیں۔نئی پالیسی کے تحت پروفیسرز کی تنخواہ 4لاکھ 2ہزار روپے سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 7لاکھ 12ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔اسی طرح ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی تنخواہ 3 لاکھ 70 ہزار سے 6لاکھ 25 ہزار روپے جبکہ اسسٹنٹ پروفیسرز کی تنخواہ 2لاکھ 88ہزار سے بڑھا کر 5لاکھ 53ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔
