کراچی(این این آئی)سندھ ہائی کورٹ نے کسٹمز حکام کی جانب سے رشوت دینے کے الزام میں 9 کسٹمز کلیئرنگ ایجنسیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کے فیصلوں سے متعلق ریفرنسز مسترد کرتے ہوئے کسٹمز اپیلیٹ ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھنے کاحکم دے دیا۔ جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تمام 9 ریفرنسز کا مشترکہ حکم نامہ جاری کردیا۔عدالت نے قرار دیا کہ کسٹمز کے شوکاز نوٹسز میں رشوت کی رقم اور ادائیگی کرنے والے شخص کی نشاندہی نہیں کی گئی، جبکہ متعلقہ مواد بھی ایجنسیوں کو فراہم نہیں کیا گیا۔ لائسنس منسوخی کے احکامات میں رقوم کے لین دین کی تفصیلات شامل کرنا، مگر کارروائی سے قبل متعلقہ شواہد فراہم نہ کرنا، ایجنٹس لائسنسنگ رولز کے تقاضوں کے منافی ہے۔عدالت کے مطابق کسٹمز ایجنٹس کی جانب سے افسران کو رشوت دینے یا انہیں متاثر کرنے کی کوشش بھی کارروائی کے لیے کافی ہوسکتی ہے، اس مقصد کے لیے گڈز ڈیکلیریشن میں فائدہ حاصل ہونا ضروری نہیں۔
