اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے مبینہ فراڈ کے مقدمے میں گرفتار ملزم نعمان کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ زنیرہ ظفر کی عدالت میں پیش کیاگیا، جہاں پولیس نے تفتیش کے لیے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے ملزم کو پانچ روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ پولیس ملزم کو چہرہ ڈھانپ کر عدالت میں لائی۔ملزم نعمان کے خلاف تھانہ رمنا اسلام آباد میں مقدمہ درج ہے۔ مقدمے میں لائبہ اعجاز کے والد کی جانب سے امریکہ اسٹڈی ویزا کے نام پر مبینہ فراڈ اور بھاری رقم وصول کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس نے کیس کی تفتیش آگے بڑھانے کے لیے سیل کی گئی ایف آئی آر بھی کھول دی ہے اور طالبہ کے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے۔لائبہ اعجاز کے والد نے پولیس کو دیے گئے بیان میں الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کی ملاقات بلیو ایریا اسلام آباد میں نعمان نامی ایجنٹ سے ہوئی تھی۔ ملزم نے مبینہ طور پر خود کو اسلام آباد میں تعینات ایک اعلی افسر ظاہر کیا اور ان کی بیٹی کو اسٹڈی ویزا پر امریکہ بھجوانے کی پیشکش کی۔والد کے مطابق ملزم نعمان نے ان کی بیٹی کو امریکہ بھجوانے کے لیے 93 لاکھ روپے طے کیے تھے، جن میں سے 21 لاکھ روپے جی ٹین اسلام آباد میں نقد ادا کیے گئے، جبکہ مزید 29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکانٹ سے ملزم کو منتقل کیے گئے۔لائبہ اعجاز کے والد نے اپنے بیان میں مزید الزام عائد کیا کہ ملزم نے بینک اسٹیٹمنٹ کے لیے 20 ہزار امریکی ڈالر ان کی بیٹی کے اکانٹ میں منتقل کیے جانے سے متعلق جعلی رسیدیں پیش کیں۔ والد کے مطابق اس معاملے میں عائزہ نامی ایک لڑکی بھی مبینہ طور پر ملوث تھی، جو ان کی بیٹی سے رابطہ کرکے رقم کا مطالبہ کرتی تھی۔والد نے بتایا کہ بعد ازاں ملزم نے ان کے فون سننا بھی چھوڑ دیے، جس کے بعد ان کی بیٹی پانچ سے چھ روز تک شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا رہی۔ طالبہ کی مبینہ خودکشی کے واقعے کے بعد معاملہ پولیس کی تفتیش میں آگیا۔عدالت کی جانب سے ملزم نعمان کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیے جانے کے بعد تفتیشی حکام مبینہ مالی لین دین، بینک ریکارڈ، ویزا کے نام پر رقم وصول کرنے اور مقدمے میں سامنے آنے والے دیگر کرداروں کے حوالے سے تحقیقات آگے بڑھائیں گے۔مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 322/34 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ پولیس کی تفتیش میں سامنے آنے والے الزامات کی قانونی حیثیت، مالی لین دین کی تصدیق اور دیگر ممکنہ ملوث افراد کے کردار کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔ ملزم کے خلاف عائد الزامات تاحال الزامات ہیں اور ان کا حتمی تعین عدالت میں ہوگا۔
