چکوال(بیورو رپورٹ)ضلع چکوال سمیت پنجاب بھر میں مستقبل قریب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کیلئے جہاں بلدیاتی دھڑا بندیوں کاقیام عمل میں آرہا ہے وہیں پرانے سیاسی پنڈتوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے اپنے آستانوں پر رونق لگانا شروع کردی ہے،ضلع بھر میں ہونے والی نئی بلدیاتی حلقہ بندیوں پر کچھ سیاسی زعماء کے تحفظات اپنی جگہ لیکن الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومت کی جانب سے پاس کردہ بلدیاتی آرڈیننس کے اندر رہ کر نہ صرف حلقہ بندیاں مکمل کرلی ہیں بلکہ ان پر ہونے والے اعتراضات کو بھی سن کر حتمی فہرستیں آویزاں کرکے اس قضیہ کو ختم کردیا ہے،گو ان حلقہ بندیوں میں مقامی ممبران اسمبلی کی آشیر باد کو بھی نظر انداز کرنا مشکل ہے بحرحال ضلع میں کئی نئی یونین کونسلوں کے قیام سے بلدیاتی سطح پر عوامی مسائل کو قریب سے دیکھنے کی راہ ضرور ہموار ہوئی ہے،ضلعی عوام کا خیال ہے کہ ضلع میں یونین کونسل کی تعداد کیا ہے اور اس میں کتنا اضافہ یا کمی کی گئی ہے سے اہم بات بلدیاتی اداروں اور منتخب نمائندوں کو تفویض کردہ اختیارات اہمیت کے حامل ہیں اگر تو بلدیاتی نمائندوں کو محض نمودونمائش کیلئے استعمال کیا گیا تو اس انتخاب کا قطعاً کوئی فائدہ نہیں ہوگا لیکن اگر بلدیاتی نمائندوں کو ترقیاتی فنڈز حصہ بقدر جثہ فراہم کرتے ہوئے اختیارات بھی دئیے گئے تو مقامی سطح پر مسائل میں کمی لائی جاسکے گی،صوبہ پنجاب میں رواں سال کے آخر میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات اگر موسمیاتی تبدیلی کا شکار بھی ہوئے تو آمدہ سال کے اوائل میں ان کا انعقاد یقینی ہے جس سے عوامی دلچسپی میں آئے روز اضافی دیکھنے کو ملے گا
