پشاور( نیوز ایجنسیاں) کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کوپشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا
گیا، جبکہ نئے سیٹ اپ کے حق میں شہریوں نے جشن منایا۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے آرٹیکل 58ٹو بی کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ادھر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی و گورنر راج کے نفاذ کے بعد 50افراد گرفتار، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت چار مقدمات بھی درج کئے گئے۔ ڈی آئی خان میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی عائد کردی گئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔اس حوالے سے بیرسٹر گوہر نے علی زمان ایڈووکیٹ کی وساطت سے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر دی ۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر کے جمہوری حکومت ختم کر دی گئی، امید ہے عدالت صوبے میں جمہوری حکومت بحال کرے گی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ عدالت سے درخواست کی جلد سماعت کی استدعا کی ہے، ہم آئینی اور قانونی جدوجہد جاری رکھیں گے۔دریں اثناء چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے جمہوریت میں کسی بھی منتخب حکومت کو اس طرح برخاست نہیں کیا جاتا، آرٹیکل 58ٹو بی کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔پارلیمنٹ ہائو س کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایمرجنسی لگانے کے عمل سے جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کو نقصان ہو گا۔ اس عمل سے دہشت گردی کے خلاف آپ کا بیانیہ نظر انداز ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اگر حالات کی بنیاد پر ایمرجنسی لگانی ہے تو پھر کچے کے علاقے میں بھی ایمرجنسی لگا دیں۔ادھر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعدپی ٹی آئی کے حامیوں کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات میں پولیس نے تقریباً 50افراد کو گرفتار کرکے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت چار مقدمات بھی درج کر لئے ۔خیبر پختونخوا کے گورنر کی مشیر برائے اطلاعات ثمر ہارون بلور کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر محتاط اور متناسب انداز میں ردعمل دیا، پولیس کی جانب سے براہِ راست فائرنگ کے الزامات بے بنیاد اور لغو ہیں۔رپورٹس کے مطابق پشاور کے ضلع باڑہ بازار کے داخلی و خارجی راستے سیل کر دئیے گئے، باڑہ بازار کا کنٹرول پولیس نے سنبھال لیا۔ کپیٹل سٹی پولیس پشاور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ باڑہ میں حالات مکمل کنٹرول میں ہیں، عوام افواہیں پھیلانے سے گریز کریں، قانون ہاتھ میں لینے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ جھڑپوں کے دوران پانچ افراد زخمی ہوئے، سب سے سنگین واقعہ خیبر کے ضلع باڑہ میں پیش آیا۔پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ نامعلوم افراد نے باڑہ میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ایک مرکز کو آگ لگا کر قریبی دفاتر پر دھاوا بول دیا۔اس واقعے کے حوالے سے ثمر بلور نے کہا کہ واقعے کی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے ذریعے کیا جائے گا، جس میں ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لینے اور عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کرنے سمیت دیگر شواہد جمع کیے جائیں گے۔ دریں اثناء پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اور رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات سب بہانے تھے، مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانا ہے۔ ایک انٹرویو میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ انہوں نے جو کہا تھا، اب وہ ہو گیا ہے۔لانگ مارچ سے متعلق شوکت یوسفزئی نے اعتراف کیا کہ مارچ کیلئے ان کے سامنے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔علاوہ ازیںسابق سپیکرقومی اسمبلی و رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے کہا ہے کہ گورنر راج کا مقصد اگر دہشت گردی کا خاتمہ تھا تو پھر سیاسی مخالفین کے گھروں پر چھاپے کیوں مار رہے ہیں؟ ۔پولیس کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کرکے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے۔ ایکس پر اپنے ٹویٹ میں اسد قیصر نے کہا کہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کا جواز پیش کرتے ہوئے گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی، لیکن افسوس کہ دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائی کے بجائے صوبے کی پولیس کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔آج میرے گھر پر پولیس کی بھاری نفری کا چھاپہ اس طرزِ عمل کی ایک واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کہاں ہے؟ عوام کے جان و مال کا تحفظ کہاں ہے؟ آخر خیبر پختونخوا پولیس کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کرکے حکومت کیا حاصل کرنا چاہتی ہے؟صوبے میں امن و امان کی بحالی کے بجائے سیاسی کارکنوں اور مخالفین کو نشانہ بنانا حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ہم ایسے ہتھکنڈوں سے نہ خوفزدہ ہوں گے اور نہ ہی اپنے آئینی، جمہوری اور سیاسی موقف سے پیچھے ہٹیں گے۔فوری طور پر سیاسی انتقامی کارروائیاں بند کی جائیں اور وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان اور دیگر تمام گرفتار سیاسی رہنمائوں، کارکنوں اور اراکینِ اسمبلی کو رہا کیا جائے۔ اسد قیصر نے کہا کہ ضلع باڑہ، خیبر پختونخوا میں نہتے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔پرامن سیاسی کارکنان کے خلاف طاقت کا استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور سیاسی اختلافات کو طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق کا احترام کرے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور، چترال، باجوڑ سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں روزمرہ کی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں، جبکہ ایبٹ آباد، کرک اور چترال میں نئے سیٹ اپ کے حق میں شہریوں کی جانب سے جشن منایا گیا اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔پشاور، چترال، باجوڑ اور دیگر علاقوں میں دکانیں اور کاروباری مراکز کھلے ہیں اور شہری اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں مشغول ہیں۔ سیاسی صورتحال میں تبدیلی کے باوجود مختلف شہروں میں کاروبار زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔دوسری جانب ایبٹ آباد، کرک اور چترال میں صوبے میں نئے سیٹ اپ کے حق میں خوشی کا اظہار کیا گیا۔کرک میں شہریوں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کیں، جبکہ ایبٹ آباد میں نئے سیٹ اپ کے حق میں ریلی نکالی گئی۔ چترال میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان حکمت اللہ نے ضلع بھر میں ایک ماہ کیلئے دفعہ 144نافذ کر دی، جس کے تحت جلسے، جلوسوں، ریلیوں اور عوامی اجتماعات پر 30روز کے لئے پابندی عائد کر دی گئی ۔جاری اعلامیے کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری ، اسلحے کی نمائش اور سڑکوں پر خیمے لگانے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں دو گروپوں میں فائرنگ کے واقعے میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔ڈی پی او ڈی آئی خان ضیا الدین احمد کا کہنا ہے کہ علاقہ ملانہ میں دو گروپوں میں فائرنگ کے واقعے میں 4 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ضیا الدین احمد نے کہا کہ فائرنگ کا واقعہ والی بال میچ کے بعد واپسی پر پیش آیا، فائرنگ کے واقعے میں 5 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تحقیقات بھی جاری ہے۔
چیلنج
بریکنگ نیوز
- حکومت پنجاب کے ترقیاتی اقدامات’ داتا دربار کے اطراف کا منظر تبدیل
- کچرا اٹھانا والڈ سٹی کی ذمہ داری’ ہماری طرف سے عرس کے انتظامات
- حضرت شاہ رکن عالم کے سالانہ عرس کے انتظامات نامکمل
- سعودی عرب میں ٹریفک حادثہ، پاکستانی باپ 2 بیٹوں سمیت جاں بحق
- یورپی کمشنر کی غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کی پاکستانی کوششوں کی تعریف
- سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ساس کی نماز جنازہ ادا کی جا رہی ہے۔
- پاکستان میں روزگار کے بحران کی سنگین تصویر سامنے آگئی
- سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی بازیابی کیلئے درخواست دائر
- سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی ساس رضائے الٰہی سے انتقال کر گئیں’نماز جنازہ ادا
- اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری سعودی عرب کے نامزد سفیر رجع نامی البدغامی اور فرانس کے نامزد سفیر جین نویل سے اسناد وصول کررہے ہیں۔
- پنشن اور مراعات نہ دینے کیخلاف سابق جج جسٹس (ر) ظفراقبال چوہدری کی درخواست خارج
- پنجاب ‘ سبسڈیز’ سرکاری فیسوں سے متعلق پالیسی سخت کرنیکی تیاری
- مذاکرات کس نے ناکام بنائے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان نئی محاذ آرائی
- کسان کارڈ کے مسائل ‘گنے کے کاشتکاروں کے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر پر تشویش
- خفیہ ریکارڈنگ ڈیوائس نصب کرنیکا الزام’اوپن AIکے سعودی نژاد انجینئر گرفتار
- بڑی تبدیلی کا امکان محمود اچکزئی کی جگہ نئے قائد حزب اختلاف کے انتخاب پر غورPTI
- سہیل آفریدی کمرے میں اکیلے تھے’ دروازہ توڑ کر تحویل میں لیا’ اندرونی کہانی
- الیکشن کالعدم قرار دینے کی درخواست پر یارن مرچنٹ ایسوسی ایشن کے وکیل کو جواب داخل کرانے کیلئے 20 اکتوبر تک مہلت
- اسلام آباد: وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ چینی کمپنی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سے پاک چین سرمایہ کاری کے حوالے سے ملاقات کر رہے ہیں۔
- ہنڈی حوالہ کیس میں ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت ‘ ایف آئی اے کی تفتیش میں شامل ہونیکا حکم
