تہران، ریاض (این این آئی، ویب ڈیسک) ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جوہری ہتھیار بنانے اور عالمی جوہری معاہدے سے نکلنے کے مطالبات میں اضافہ ہوگیا ہے۔برطانوی اخبارکی رپورٹ کے مطابق ایران میں سخت گیر حلقے موقف اختیار کررہے ہیں کہ سفارتی مذاکرات ملک کو بار بار ہونے والے حملوں سے محفوظ رکھنے میں ناکام رہے ہیں اس لیے جوہری ہتھیاروں کی تیاری پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان حسن قشقاوی نے کہا ہے کہ ملک کے نئے رہبرِاعلی مجتبی خامنہ ای جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر نیا مذہبی حکم جاری کرسکتے ہیں اور انہیں ایسا کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔رپورٹ میں ایک باخبر شخص کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران میں جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی حمایت پہلے نہ ہونے کے برابر تھی لیکن اب یہ بڑھ کر 50 فیصد سے زیادہ ہوگئی ہ دریں اثنا ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے دعوی کیا ہے کہ فورس کی عسکری صلاحیتیں ماضی کے مقابلے میں کم از کم ڈیڑھ گنا بڑھ چکی ہیں جبکہ جنگ میں شدت آنے کی صورت میں پاسداران انقلاب کے پاس مخالفین کو حیران کرنے والے نئے ہتھیار اور صلاحیتیں موجود ہیں۔ترجمان سردار محیبی کے مطابق پاسداران انقلاب کی عسکری طاقت میں مقداری اور معیاری دونوں سطحوں پر اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میزائلوں، ڈرونز اور دیگر فوجی سازوسامان کی پیداوار مسلسل جاری رہی ہے بلکہ اس میں مزید توسیع بھی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایرانی ہتھیاروں کی مار کرنے کی رینج، اہداف کو درست نشانہ بنانے کی صلاحیت اور تباہ کن طاقت میں بہتری لائی گئی ہے، جبکہ تیزی سے نئے ہتھیار بھی تیار کیے جا رہے ہیںیران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران کے علاقائی ممالک کے ساتھ کوئی بنیادی اختلافات نہیں ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ایک گفتگو مسعود پزشکیان نے کہا کہ موجودہ مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔قبل ازیں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے فرانس میں مظاہروں کی وجہ امریکا ایران جنگ کے باعث ایندھن کی بلند قیمتوں کو قرار دیے جانے پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا۔عباس عراقچی نے کہا کہ فرانسیسی صدر نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکی صدر کی حمایت کی تھی، میکرون نے امریکی جرائم کا خیر مقدم کر کے موجودہ صورتِحال کی بنیاد رکھی علاوہ ازیں
سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت ریاض کی جانب داغا گیا حوثی ملیشیا کا بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کردیا۔ترجمان اتحادی افواج ترکی المالکی کے مطابق حوثی ملیشیا کی جانب سے ریاض کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے میزائل کو فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے تباہ کیا۔خبر ایجنسی کے مطابق میزائل حملے کے دوران ریاض میں دو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد شہریوں کو موبائل فون پر ہنگامی الرٹس موصول ہوئے۔ممکنہ میزائل حملے کے پیش نظر سعودی سول ڈیفنس نے دارالحکومت ریاض کے لیے فضائی خطرے کا الرٹ جاری کیا تھا۔حکام کے مطابق حوثی ملیشیا کا میزائل حملہ ناکام بنانے کے بعد خطرے کا الرٹ واپس لے لیا گیا۔ ادھر ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعوی کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں دو آئل ٹینکرز ایرانی بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آگئے، جس کے بعد ان کی نقل و حرکت روک دی گئی۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے سرکاری خبر رساں پلیٹ فارم سپاہ نیوز پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں ٹینکرز ایسے بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے تہران غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ایرانی بحریہ کے مطابق بارودی سرنگوں کے دھماکوں کے نتیجے میں دونوں ٹینکرز میں آگ بھڑک اٹھی اور ان کی نقل و حرکت رک گئی۔تاہم، ایرانی فورسز نے واقعے کا وقت، ٹینکرز کے نام، ان کی ملکیت اور عملے کے ممکنہ جانی نقصان سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق بھی سامنے نہیں آئی۔
جوہری ہتھیار مطالبات
