تل ابیب (ویب ڈیسک) اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پرحملے شروع کرنے کے لیے زور دے رہے ہیں اور انہوں نے رواں ماہ کے اوائل میں اسرائیلی فوج کو ایران پر ایک نئے بڑے حملے کی منصوبہ بندی کرنے کی ہدایت کی تھی۔برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کا بتانا ہے کہ اس معاملے سے باخبر تین ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نے 10 اکتوبر کو اختتامِ ہفتہ پر کئی روزہ بمباری مہم کی تیاری کر لی تھی جس میں ایرانی جوہری تنصیبات، حکومتی اہداف اور بجلی گھروں جیسے شہری بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جانا تھا۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مشن بالآخر اس لیے منسوخ کر دیا گیا کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل تنازع کو دوبارہ شروع کرنے کے حق میں نہیں تھے۔اس کے باوجود ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں نے ایران کے خلاف نئے حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو ایرانی حکومت کے خلاف اپنا کام ختم کرنا چاہیے۔ اخبار نے ذرائع کا حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ اس مجوزہ بمباری کی شدت فروری میں شروع ہونے والے مشترکہ امریکا-اسرائیل حملے کی شدت سے بھی زیادہ ہونی تھی۔اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا امریکا نے براہِ راست اس آپریشن میں شامل ہونا تھا یا نہیں لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ہے کہ اسرائیل اور واشنگٹن آنے والے ہفتوں میں دوبارہ حملے شروع کر دیں۔
نیتن یاہو نے رواں ماہ کے اوائل میں ایران کیخلاف بڑے پیمانے پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی: برطانوی اخبار

