راولپنڈی، کوئٹہ،اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 6دہشت گرد ہلاک، 2 اہلکار شہید ہوگئے۔ بلوچستان میں آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کا کمانڈر مارا گیا جبکہ سکیورٹی فورسز کے مسلسل آپریشنز کے باعث5ہفتوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں خوارج کی موجودگی سے متعلق خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی، جس میں 6دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے دو اہلکار شہید ہوئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)سے جاری بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 24اکتوبر 2026 کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے زرکانی میں بھارتی حمایت یافتہ فتن الخوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کی۔بیان میں کہا گیا کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 6خوارج ہلاک ہوگئے۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کارروائی میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران پاک فوج کے دو ہلکار پنجاب کے ضلع گجرات سے تعلق رکھنے والے 36سالہ نائیک غلام مرتضیٰ اور ضلع تلہ گنگ سے تعلق رکھنے والے 30سالہ سپاہی تاثیر نے بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت پائی۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہلاک دہشت گردوں کے زیرقبضہ اسلحہ اور بارود برآمد کرلیا گیا ہے اور ہلاک دہشت گرد علاقے میں سکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل کی وارداتوں میں سرگرم تھے۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ علاقے میں مزید خوارج کی موجودگی کو ختم کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے اور سیکیورٹی فورسز ملک میں دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے عزم استحکام کے تحت کارروائی جاری رکھیں گی۔وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم 6خوارج کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین اور آپریشن کے دوران بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے نائیک غلام مرتضیٰ اور سپاہی تاثیر احمد کو خراج عقیدت پیش کیا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کی ستائش کی ۔ادھر سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں آپریشن ردالفتنہ 3کے تحت قلعہ سیف اللہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کر کے فتنہ الخوارج کے دہشت گرد کمانڈر عادل شاہ عرف درویش کو ہلاک کر دیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد کمانڈر دسمبر 2020 سے فتنہ الخوارج سے وابستہ تھا، دہشت گرد 2024 سے دہشت گرد گروہ کے مالی معاملات کی نگرانی کر رہا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشت گرد غیر مقامی دہشت گردوں کو ژوب، شیرانی اور شعبان میں رہائش فراہم کرنے میں مدد کرتا تھا اور 2022 اور 2023 سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور اغوا برائے تاوان میں ملوث رہا۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق خارجی کمانڈر کے خلاف انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں 19 مقدمات درج ہیں اور خارجی کمانڈر کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر تھی۔دریں اثناء سکیورٹی فورسز کی جانب سے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں اور 5 ہفتوں کے دوران دہشت گرد حملوں میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔خیبرپختونخوااوربلوچستان میں سکیورٹی فورسزکی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں دہشت گردحملوں میں واضح کمی ریکارڈکی گئی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی نئی رپورٹ کے مطابق 5 ہفتوں میں دہشت گرد حملے تقریباً 66فیصد کم ہوئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 38 فیصد کمی ہوئی ہے۔ 16سے22اکتوبر تک دہشت گردحملوں میں زخمی افراد کی تعداد بھی گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 20سے کم ہوکر11رہ گئی ہے۔پی آئی سی ایس ایس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے 10آپریشنزکے دوران 33 عسکریت پسندوں کو جہنم واصل کیا ۔ رپورٹ میں فتنہ الہندوستان میں قیادت کے تنازع اور فتنہ الخوارج کی بدلتی پراپیگنڈہ حکمت عملی کے اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
دہشت گرد
ڈیرہ اسماعیل خان 6 دہشتگرد جہم واصل 2جوان شہید بلوچستان میں فتنہ الخوارج کا کمانڈر ہلاک

