لاہور (خبر نگار) گلشن اقبال پارک میں آوارہ کتوں کی بھرمار نے شہریوں کی جان و سلامتی کو
خطرے میں ڈال دیا، پارک میں صبح سویرے واک کرنے والے شہری بھی کتوں کے حملوں سے محفوظ نہ رہے۔ مبینہ طور پر ایک آوارہ کتے نے شہری کو بری طرح کاٹ کر لہولہان کر دیا جبکہ فٹ پاتھ پر خون بکھرنے کی تصاویر بھی سامنے آنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ پارک میں کتوں کی موجودگی اور شہری پر حملے کے واقعے نے متعلقہ انتظامیہ کی نگرانی، سکیورٹی اور حفاظتی اقدامات کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال پارک جہاں شہری اپنے اہلخانہ کے ہمراہ تفریح اور صبح کی سیر کے لیے آتے ہیں مبینہ طور پر آوارہ کتوں کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پارک میں آنے والے افراد کو کتوں کے حملوں کا خدشہ لاحق ہے مگر متعلقہ حکام کی جانب سے موثر اقدامات دکھائی نہیں دے رہے۔ ایک شہری کے مطابق آوارہ کتے نے ایک شخص کو فٹ پاتھ پر کاٹ کر شدید زخمی کر دیا جس کے نتیجے میں وہاں کافی خون بہہ گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پارک کے پراجیکٹ ڈائریکٹر ظہیر الحسن سے جب اس واقعے کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے مبینہ طور پر لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اگر پارک میں شہری پر کتے کے حملے کا واقعہ پیش آیا ہے تو متعلقہ افسر کی لاعلمی بذاتِ خود ایک اہم سوال ہے کہ آخر پارک کے اندر ہونے والے واقعات کی رپورٹنگ اور نگرانی کا نظام کہاں ہے؟ سوال یہ ہے کہ پارک میں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کی ذمہ داری کیا ہے؟ درجنوں مالی اور دیگر عملہ اگر ڈیوٹی پر موجود ہے تو آوارہ کتوں کی موجودگی اور شہریوں کو لاحق خطرات پر قابو کیوں نہیں پایا جارہا؟ کیا عملے کی حاضری، ڈیوٹی اور نگرانی کا کوئی موثر نظام موجود ہے یا انتظامی غفلت کے باعث شہریوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے؟ ان سوالات کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ شہر میں کتے کے کاٹنے کے واقعات سے شہریوں کو سنگین طبی خطرات لاحق ہوتے ہیں جبکہ بروقت علاج نہ ملنے کی صورت میں ریبیز جیسی مہلک بیماری کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسے حالات میں عوامی تفریح گاہ میں حفاظتی انتظامات کو نظرانداز کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ شہریوں نے وزیراعلی پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ گلشن اقبال پارک میں آوارہ کتوں کی موجودگی، شہری پر مبینہ حملے، متعلقہ عملے کی ڈیوٹی اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کے موقف کی فوری انکوائری کرائی جائے، آوارہ کتوں کے تدارک کے لیے موثر اور انسانی طریقہ اختیار کیا جائے اور غفلت ثابت ہونے پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ پارک میں آنے والے شہریوں کی جان و سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔
