لاہور(خبریں ڈیجیٹل)صوبائی دارالحکومت لاہور اور اس کے گردونواح کی مارکیٹوں میں گزشتہ دو ہفتوں سے سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور اتار چڑھا کا سلسلہ جاری ہے۔ کھلے عام گرانفروشی کے باعث ٹماٹر، پیاز اور لہسن جیسی بنیادی ضرورت کی اشیا عام صارف کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔ مارکیٹ کمیٹی کی جاری کردہ سرکاری ریٹ لسٹ دکانوں پر صرف کاغذ کی حد تک محدود دکھائی دیتی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دکاندار سرکاری ریٹ سے سے روپے فی کلو اضافی وصول کر رہے ہیں۔ غریب اور متوسط طبقے کے لیے اب روزمرہ کی ہنڈیا پکانا بھی ایک چیلنج بن چکا ہے، اور عوام نے حکومت سے فوری ریلیف فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب، انجمن تاجران سبزی منڈی کا مقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے اخراجات، سپلائی چین میں تعطل اور سردی کی آمد کے باعث بعض سبزیوں کی مقامی پیداوار کم ہونے سے ہول سیل ریٹس بڑھے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ لاہور کے مطابق قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اسسٹنٹ کمشنرز اور پرائس کنٹرول مجسٹریٹس روزانہ کی بنیاد پر مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔ مصنوعی مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث متعدد عناصر کے خلاف بھاری جرمانے اور گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا رہی ہیں۔
لاہور کی مارکیٹوں آج کے اوپن مارکیٹ کے تخمینے درج ذیل ہیں:
سبزیوں کے ریٹس (فی کلو):
پیاز: 190 سے 220 روپے
ٹماٹر: 150 سے 240 روپے
آلو: 50 سے 60 روپے
لہسن (دیسی): 440 سے 500 روپے
ادرک: 365 سے 500 روپے
شملہ مرچ: 220 سے 335 روپے
مٹر: 110 سے 350 روپے
گھیا کدو: 55 سے 120 روپے
پھلوں کے ریٹس:
سیب (کالا کلو پہاڑی): 245 سے 405 روپے فی کلو
کیلا (درجہ اول): 110 سے 165 روپے فی درجن
انگور (سندر خانی): 155 سے 630 روپے فی کلو (معیار کے مطابق)
امرود: 75 سے 240 روپے فی کلو See less

