اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) اپوزیشن جماعتوں کی مجوزہ آل پارٹیز کانفرنس ایک مرتبہ پھر کھٹائی میں پڑ گئی، کانفرنس کے انعقاد کے لیے پہلے 10 نومبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی جسے بعد ازاں تبدیل کرکے 14 نومبر کر دیا گیا، تاہم اب 14 نومبر کی ڈیڈ لائن بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ہونے والے اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں آل پارٹیز کانفرنس کا ایجنڈا مرتب کرنے اور مشترکہ سیاسی لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے قائم کی گئی چھ رکنی کمیٹی بھی تاحال کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ کر سکی، جبکہ کمیٹی ارکان کی عدم دلچسپی اور بعض ارکان کی عدم شرکت نے اپوزیشن اتحاد کی کوششوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ چھ رکنی کمیٹی آل پارٹیز کانفرنس کے اغراض و مقاصد کا تعین کرے گی، مختلف اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرے گی اور کانفرنس کے لیے مشترکہ ایجنڈا مرتب کرکے آل پارٹیز کونسل کی تشکیل کی راہ ہموار کرے گی، تاہم کمیٹی کے پہلے ہی اجلاس میں ارکان کی مطلوبہ دلچسپی سامنے نہ آ سکی، بعض ارکان کی عدم شرکت کے باعث مشاورت کا عمل بھی متاثر ہوا اور کانفرنس کی تیاریوں میں پیش رفت نہ ہو سکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کی جانب سے کمیٹی کو ہدف دیا گیا تھا کہ 14 نومبر سے قبل آل پارٹیز کانفرنس کا ایجنڈا حتمی شکل دے کر آل پارٹیز کونسل تشکیل دی جائے تاکہ اپوزیشن جماعتیں مشترکہ پلیٹ فارم سے اپنے آئندہ کے سیاسی اور پارلیمانی لائحہ عمل کا اعلان کر سکیں، تاہم مقررہ تاریخ قریب آنے کے باوجود کمیٹی تاحال ایجنڈے کو حتمی شکل دینے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ذرائع کے مطابق کمیٹی ارکان نے راجہ ناصر عباس سے مزید وقت دینے کی درخواست کرتے ہوئے آل پارٹیز کانفرنس کو نومبر کے تیسرے ہفتے تک منتقل کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس طرح 10 نومبر سے 14 نومبر تک تبدیل ہونے والی تاریخ میں ایک مرتبہ پھر توسیع کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جبکہ کمیٹی کی جانب سے مزید مہلت طلب کیے جانے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ اجلاس کے انعقاد سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے درمیان اختلافات بھی تاحال ختم نہیں ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات صرف سیاسی حکمت عملی تک محدود نہیں بلکہ ریاستی اداروں سے متعلق بیانیے پر بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت مولانا فضل الرحمان کے ریاستی اداروں سے متعلق سخت تنقیدی بیانیے کے ساتھ کھل کر کھڑے ہونے پر آمادہ نہیں، جبکہ تحریک انصاف کے بعض رہنما مولانا فضل الرحمان کو تحمل سے کام لینے اور سیاسی معاملات میں محتاط طرزِعمل اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت چاہتی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مشترکہ سیاسی حکمت عملی ایسے نکات پر تشکیل دی جائے جن پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہو، تاہم جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا ریاستی معاملات پر سخت مقف دونوں جماعتوں کے درمیان مشترکہ بیانیہ تشکیل دینے میں ایک اہم رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اسی اختلاف کے باعث آل پارٹیز کانفرنس کے متوقع ایجنڈے اور مشترکہ اعلامیے کے نکات پر بھی اتفاق رائے پیدا کرنا آسان دکھائی نہیں دے رہا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا مقصد مختلف سیاسی جماعتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کرنا، حکومت کے حوالے سے مشترکہ مقف اختیار کرنا، پارلیمانی محاذ پر رابطوں کو مثر بنانا اور مستقبل کے سیاسی لائحہ عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا، تاہم کانفرنس سے قبل ہی تاریخ میں بار بار تبدیلی، چھ رکنی کمیٹی کی سست روی اور تحریک انصاف و جمعیت علمائے اسلام کے درمیان اختلافات نے اس منصوبے کو متاثر کر دیا ہے۔اپوزیشن حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق ہو چکا تھا اور اس کے ایجنڈے کی تیاری کے لیے باقاعدہ چھ رکنی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی تھی تو اس کے باوجود ابتدائی مرحلے میں ہی پیش رفت کیوں نہ ہو سکی۔ کمیٹی کے ارکان کی جانب سے مزید وقت طلب کیے جانے سے یہ معاملہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا اپوزیشن جماعتیں واقعی مشترکہ سیاسی حکمت عملی پر متفق ہیں یا مختلف جماعتوں کے اپنے اپنے سیاسی اور بیانیاتی تحفظات اس کوشش کی راہ میں حائل ہیں۔اب تمام نظریں چھ رکنی کمیٹی پر لگی ہیں کہ وہ نومبر کے تیسرے ہفتے تک مشترکہ ایجنڈا مرتب کرنے اور آل پارٹیز کونسل کی تشکیل کے معاملے پر اتفاق رائے پیدا کر پاتی ہے یا نہیں۔ تاہم 10 نومبر سے 14 نومبر اور اب نومبر کے تیسرے ہفتے تک ممکنہ توسیع نے اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کو ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
